شہدائے احمدیت — Page 83
خطبات طاہر بابت شہداء 78 خطبہ جمعہ ۲۱ رمئی ۱۹۹۹ء تشریف لائیں اور خیر و عافیت سے واپس جائیں۔ان دعاؤں میں بھی آپ ان کو یاد رکھیں۔شہدا کا جو ذکر چلا ہے آج کے بہت مختصر خطبہ میں میں فرقان بٹالین کے شہدا کا پہلے ذکر کروں گا۔فرقان بٹالین کا قیام حکومت پاکستان کی درخواست پر عمل میں آیا تھا کیونکہ کشمیر کے محاذ پر ہندوستان کا دباؤ بہت زیادہ تھا اور جس کثرت سے بعد میں پاکستان کو اپنے دفاع میں جرات مندانہ شہادتیں پیش کرنے کی توفیق ملی ہے ابھی اس کا ذوق و شوق کے ساتھ یہ سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا اور جماعت احمدیہ کا نمونہ ہی دراصل آغاز میں باقی مجاہدین کے لئے سر فہرست بن گیا اور جماعت کو ہر میدان میں پہل کرنے کی توفیق ملی ہے اسی طرح کشمیر کے جہاد میں بھی جماعت کو خدا تعالیٰ نے یہ پہل کی توفیق عطاء فرمائی۔اس کی بہت ہی تفصیلی تاریخ ہے جو ہماری کتابوں میں محفوظ ہے مگر میں ان سب تفاصیل کو نظر انداز کرنا چاہتا ہوں کیونکہ جو مرکزی پہلو ہے وہ یہ ہے کہ کون کون شہدا تھے جن کو شہادت کی توفیق ملی۔اس لئے اس کے مختصر تعارف کے طور پر میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ حضرت مصلح موعودؓ نے پاکستان کی حکومت کی تحریک پر ہی یہ تحریک کی تھی اور اس تحریک میں آپ نے اپنا بہت ہی اعلیٰ نمونہ فرمایا۔صرف احمدی والدین ہی کو تحریک نہیں بلکہ ان کے جذبہ شہادت کو بڑھانے کے لئے آپ نے اپنے بیٹے بھی اس تحریک میں سب سے پہلے پیش کئے۔ان میں سے خاص طور پر دو بڑے بیٹے اس لحاظ سے قابل ذکر ہیں۔ایک حضرت خلیفتہ المسیح الثالث " کو بھی آپ نے اس کو آرگنائز کرنے لئے یعنی اسے منظم کرنے کے لئے مقرر فرمایا تھا اور دوسرے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ابھی زندہ ہیں ان کے سپرد کیا تھا کہ وہ تمام تحریک کو منظم کریں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے اپنے اپنے دائرے میں بہت اعلیٰ خدمات سرانجام دیں اور ان دونوں کے علاوہ آپ کے چھ بیٹے بھی اس محاذ پر لڑنے کے لئے پہنچے اور ایک داماد میر داؤد احمد صاحب بھی اس میں شامل ہوئے۔اسی طرح خاندان کے دو اور افراد بھی اس قربانی میں شامل ہو کر سعادت پاگئے۔تو اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنے اپنے دائرے میں خدمت کی بہترین جزا عطاء فرمائے۔شہادت کے واقعات کی تفصیلات کو جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے میں نظر انداز کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اب میں خطبات کو ویسے بھی مختصر کر رہا ہوں کیونکہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی اور حضرت