شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 240 of 297

شہدائے احمدیت — Page 240

خطبات طاہر بابت شہداء 230 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۹۹ء نومبائع کا ایک سوتیلا بھائی رفاقت حسین جو مجرمانہ ذہنیت کا مالک تھا اور منشیات اور چوری وغیرہ کے مقدمات میں ملوث ہے ، گھر میں احمدیت پھیلانے کی ذمہ دار مبار کہ بیگم کو سمجھتا تھا لہذا ان کا سخت دشمن تھا۔چنانچہ اس نے ۲ مئی ۱۹۹۹ ء کو آپ پر چھریوں کے پے در پے وار کر کے آپ کو شدید زخمی کر دیا۔آپ کو اسی حالت میں علامہ اقبال ہسپتال سیالکوٹ میں پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے آپ کا آپریشن کیا بظاہر آپریشن کامیاب رہا لیکن چند دن بعد آپکی حالت بگڑنے لگی تو فورا میو ہسپتال لے جایا گیا جہاں آپ ۹ رمئی ۱۹۹۹ء کو وفات پاگئیں۔آپ کے پسماندگان میں آپ کے شوہر مکرم عمر سلیم صاحب کے علاوہ تین بیٹے اور دو بیٹیاں اور والدہ شامل ہیں۔ایک بیٹا ثا قب تحریک وقف نو میں شامل ہے۔حضرت سیدہ آصفہ بیگم صاحبہ حرم حضرت خلیفہ المسیح الرابع اب آخر میں میں آصفہ بیگم کا ذکر کرتا ہوں۔کیونکہ بکثرت لوگوں کے خطوط مل رہے ہیں اور مجھ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ آپ کی تعریف کے مطابق وہ بھی شہیدوں میں شامل ہیں۔مجھے تو جب بھی وہ یاد آتی ہیں نہ جانے کیوں ذہن پر یہ شعر قبضہ کر لیتا ہے مارا دیار غیر میں مجھ کو وطن سے دور رکھ لی مرے خدا نے مری بے کسی کی شرم وہ شرم میں رکھنے والا جانتا ہے جہاں تک مجھے یقین ہے وہ اللہ کے نزدیک شہداء میں شامل تھیں۔میرے شہید کہنے یا نہ کہنے سے بھی ان کا مقام میرے اللہ کے حضور وہی رہے گا جو مقدر ہو چکا ہے۔اللہ انہیں غریق رحمت فرمائے۔پس یہ آخری ذکر ہے خطبات میں شہداء کا۔اس کے بعد یہ سلسلہ جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے اب بند کر دیا جائے گا۔نوٹ: عہد خلافت رابعہ کے دیگر شہداء کا ذکر بطور ضمیمہ اس کتاب میں شامل کیا جارہا ہے۔