شہدائے احمدیت — Page 233
خطبات طاہر بابت شہداء 222 خطبہ جمعہ ۱۶ ؍ جولائی ۱۹۹۹ء کی ایک قریبی دکان پر گئے۔وہاں سے واپس گھر آرہے تھے کہ قاتل اچانک تاریکی سے نکل کر آپ کےسامنے آئے۔آپ کا پوچھا اور یہ بھی پوچھا کہ آپ احمدی ہیں اور ایک اور آدمی کا نام بھی پوچھا کہ آپ کسی نذیر احمدی کو جانتے ہیں تو آپ نے لاعلمی کا اظہار کیا۔اس کے بعد قاتلوں میں سے ایک نے آپ پر دو فائر کئے اور بھاگ گئے۔آپ پر چونکہ گھر کے قریب ہی فائر کئے گئے تھے اس لئے آپ نے زخمی ہونے کے باوجود گھر والوں کو آوازیں دیں جو آپ کی آواز پر فوراً باہر آئے اور زخمی حالت میں آپ کو ہسپتال لے گئے لیکن راستہ ہی میں وفات پاگئے۔اناللہ وانا اليه راجعون۔شہید مرحوم نے ایک بیٹا اور تین بیٹیاں پسماندگان میں چھوڑیں۔مکرم ملک نصیر احمد صاحب وہاڑی شہادت مکرم ملک نصیر احمد صاحب شہید، وہاڑی۔تاریخ شہادت ۴ را گست ۱۹۹۸ء۔آپ کے والد مکرم غلام علی صاحب ۱۹۱۱ء میں حضرت خلیفتہ اسی الاول کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔ملک نصیر احمد صاحب ۱۹۱۳ء میں فیض اللہ چک میں پیدا ہوئے۔عملی زندگی کا آغاز محکمہ پولیس کی ملازمت سے کیا اور سب انسپکٹر کے عہدہ سے ۱۹۶۷ء میں ریٹائر ہونے کے بعد وہاڑی میں مستقل رہائش اختیار کر لی۔ایک جینگ فیکٹری کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ فلپس کمپنی کی ایجنسی بھی آپ کے پاس تھی۔آپ وہاڑی کی ایک با اثر شخصیت تھے۔نہایت دبنگ ،غریبوں کے ہمدرد اور بڑے مہمان نواز تھے۔آپ سالہا سال تک جماعت احمد یہ وہاڑی کے سیکرٹری امور عامہ رہے۔دو دفعہ زعیم اعلی انصار اللہ بنے اور جولائی ۱۹۹۸ء سے صدر کے عہدہ پر فائز تھے۔بڑے نڈر داعی الی اللہ تھے۔خلافت سے بے انتہا محبت تھی۔باجماعت نماز کے پڑھنے کے پابند تھے حتی کہ پچاسی سال کی عمر میں بھی آپ کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی کہ ہر نماز بیت الذکر میں ادا کریں۔۴/اگست ۱۹۹۸ ء کو بیت الذکر میں نماز فجر کی ادائیگی کے لئے ، یعنی یہ ان کا جذبہ تھا با جماعت نماز کی ادائیگی کے لئے کہ اس عمر میں موٹر میں بیٹھ کر مسجد پہنچے، صبح پونے چار بجے کار پر روانہ ہوئے۔ابھی آپ اپنی کار سے اترے ہی تھے کہ حملہ آوروں نے جو پہلے سے گھات لگائے بیٹھے تھے آپ پر فائرنگ کر دی۔ایک گولی سینے میں لگی جس سے موقع پر ہی جام شہادت نوش کیا۔اناللہ وانا اليه راجعون۔حملہ آور آپ کی گاڑی لے کر فرار ہو گئے۔اس وقت ابھی بیت الذکر میں کوئی نمازی