شہدائے احمدیت — Page 234
خطبات طاہر بابت شہداء 223 خطبہ جمعہ ۶ ار جولائی ۱۹۹۹ء نہیں آیا تھا۔جب نمازی آئے تو انہوں نے آپ کو بیت الذکر کے قریب شہید ہونے کی حالت میں پایا۔اسی دن آپ کی نعش ربوہ لائی گئی جہاں بعد نماز جنازہ تدفین ہوئی۔پسماندگان میں آپ نے دو بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑیں۔مکرم ماسٹر نذیر احمد صاحب بھگو نوابشاہ مکرم ماسٹر نذیر احمد صاحب بھکیو شہید نوابشاہ۔تاریخ شہادت ۱۰ را کتوبر ۱۹۹۸ء۔آپ کے پڑنانا حضرت اخوند محمد رمضان صاحب، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیمی صحابہ میں سے تھے جنہیں ۱۸۹۸ء میں بیعت کی سعادت نصیب ہوئی۔اس لحاظ سے سندھی خاندانوں میں آپ قدیم ترین صحابہ کی اولاد میں سے تھے۔آپ بہت نیک متقی ، تہجد گزار بزرگ تھے۔خاموش طبع ، بے لوث خدمت کرنے والے اور مخلس انسان تھے۔احمدیوں اور غیر احمدیوں میں یکساں ہر دل عزیز تھے۔ایک عرصہ سے دو تین مولوی ماسٹر صاحب کو دھمکیاں دے رہے تھے کہ یہاں سے چلے جاؤ ورنہ ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے۔رات کے وقت وہ کبھی کبھی آپ کے گھر میں پتھر بھی پھینکتے تھے۔۱۰ را کتوبر ۱۹۹۸ء کی صبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد جب آپ گھر پر ہی تھے کہ آپ کے دروازے کی گھنٹی بجی۔جیسے ہی آپ باہر نکلے تو ایک آدمی نے آپ پر پستول سے فائر کیا۔اس حملہ سے آپ دروازہ پر ہی گر گئے اور چند لمحوں میں ہی موقع پر شہید ہو گئے۔اناللہ وانا اليه راجعون۔آپ کے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔بڑے بیٹے غلام حیدر بھگو نیشنل ہائی وے میں بڑے عہدہ پر فائز ہیں۔دوسرے بیٹے حمید احمد بھگیو سندھ سیکرٹریٹ کراچی میں ملازم ہیں اور تیسرے بیٹے سلیم احمد بھگو لیاقت میڈیکل کالج میں فائنل ائیر کے طالب علم ہیں۔چوتھے بیٹے خالد احمد بھنگیو سندھ یونیورسٹی میں کامرس کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔بیٹیوں میں بڑی بیٹی شادی شدہ ہیں اور باقی دوا بھی غیر شادی شدہ ہیں۔اب چونکہ وقت ختم ہو گیا ہے جو چند شہداء کا تذکرہ باقی رہتا ہے وہ انشاء اللہ تعالیٰ اگلے خطبہ میں بیان کر دیا جائے گا اور پھر جلسے کے متعلق ہدایات بھی اسی خطبہ میں دے دی جائیں گی۔(حضور انور نے پرائیویٹ سیکرٹری سے مخاطب ہو کر فرمایا : اس عرصہ میں ہوسکتا ہے کچھ اور بھی مل جائیں اگر مل گئے تو پوچھ کے شامل کر لینا ورنہ یہی ذکر ہے۔باقی تاریخ احمدیت میں انشاء اللہ چھپتار ہے گا۔