شہدائے احمدیت — Page 225
خطبات طاہر بابت شہداء 214 خطبہ جمعہ ۶ ار جولائی ۱۹۹۹ء احمدی ہونے کی وجہ سے نکال دیا گیا۔آپ اکثر خواہش کیا کرتے تھے کہ کاش مجھے بھی صاحبزادہ عبداللطیف کی طرح شہادت کی توفیق ملے۔چنانچہ بارہا ان کو احمدیت کی خاطر تکلیفیں پہنچیں۔مردان میں ان پر چھری سے وار کیا گیا۔۱۹۷۴ء میں سرگودھا ریلوے سٹیشن پر جن کو گولیاں لگیں ان میں یہ بھی شامل تھے اور جب انہیں گولی گی تو فرمایا یہ تو ابھی آغاز ہے۔گویا اسی وقت سے شہادت کی خواہش تھی اور جب تک زندہ رہے اسی نیت کے ساتھ زندہ رہے۔ریاض شہید کے خسر محترم ڈاکٹر رشید احمد خان صاحب کی تبلیغ سے شب قدر مردان کے مکرم دولت خان صاحب کو احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق ملی۔وہ چونکہ ایک طاقتور پٹھان خاندان سے تعلق رکھتے تھے اس لئے ان کے احمدی ہونے پر وہاں بڑا سخت رد عمل ہوا اور تمام علاقے میں ان کے متعلق قتل کے فتوے جاری ہونا شروع ہو گئے۔دولت خان صاحب کے بھائیوں میں سے ایک بھائی سخت متشدداور مخالفت میں پیش پیش تھا۔اس نے افغانستان سے آئے ہوئے ایک ملاں سے ان کے قتل کا فتویٰ لیا مگر وہ پھر بھی وہاں رہتے رہے۔آخر پولیس نے نقص امن کی دفعہ لگا کر ان کو جیل میں ڈال دیا۔۹ر اپریل ۱۹۹۵ء کی صبح جب رشید احمد صاحب اور ریاض احمد صاحب ان کی ضمانت کے لئے شب قدر گئے تو وہاں پانچ ہزار عوام کا ایک مشتعل ہجوم اکٹھا کیا جا چکا تھا اور ملاں فضل ربی بڑے زور کے ساتھ سنگسار کرنے کی تعلیم دے رہا تھا۔چنانچہ عین احاطہ عدالت میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی میں سب سے پہلے بڑے زور سے ریاض شہید کی پیشانی پتھر مارا گیا اور وہ نیم بے ہوش ہو کر گر پڑے۔اسی حالت میں آپ پر مزید سنگ باری کی گئی۔لیکن آپ مسلسل کلمہ کا ورد کرتے رہے۔آپ کی آخری آواز بھی یہی تھی۔لا اله الا الله محمدرسول الله۔انالله وانا الیه راجعون۔بعد ازاں آپ کی نعش کو گھسیٹا گیا اس پر ان درندوں نے ناچ کیا اور یوں ان لوگوں نے اپنا درندہ ہونے کا ثبوت دیا۔پولیس نے بھی ان کو بچانے کی بجائے ان کی نعش کو ٹھڈے مارے اور کہا کہ ہم بھی ثواب میں شریک ہو جائیں۔پاکستان کی پولیس کو ثواب کا بس یہی موقع ملتا ہے اس کے سوا ان کو بھی ثواب کمانے کا موقع نہیں ملا۔آپ کے خسر پر بھی بہت زیادہ تشدد کیا گیا یہاں تک کہ تشد دکر نے والوں نے سمجھا کہ