شہدائے احمدیت — Page 197
خطبات طاہر بابت شہدا 188 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۹۹ء واقعہ شہادت: ۹ جون ۱۹۸۵ء کو آپ دن کے وقت کار پر اپنے گھر پہنچے تو گھر کے قریب ہی چھپے ہوئے دوسندھیوں نے آپ پر حملہ کر دیا اور آپ کی گردن پر چاقو کے پے در پے وار کئے۔آپ نے کار کا ہارن بجایا تو قاتل بھاگ گئے۔پھر آپ ہمت کر کے خود کار چلا کر قریبی ہسپتال پہنچے لیکن اس وقت تک بہت خون بہہ چکا تھا جس کی وجہ سے جانبر نہ ہو سکے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔پولیس نے مقدمہ تو درج کیا لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔شہید مرحوم بکثرت غرباء کے علاج پر اپنے پاس سے خرچ کیا کرتے تھے اور ان کے بچوں کے لئے بھی اخراجات دیا کرتے تھے۔نہایت بے نفس و بے لوث انسان تھے۔خدمت اپنوں اور غیروں سبھی کی کی مگر کبھی کسی سے کوئی جزانہ چاہی۔ساری زندگی یک طرفہ احسان کا سلسلہ جاری رکھا۔ان کی شہادت کے موقع پر میں نے خطبہ میں جماعت کو سمجھایا کہ یہ جو شہادتیں ہو رہی ہیں۔ان شہادتوں کے نتیجہ وہ پاکیزہ لوگ اور وہ پیارے وجود پاکستان سے رخصت ہو رہے ہیں جو دراصل پاکستان کی بقا کے ذمہ دار ہیں۔ایسے وجود ہیں کہ جن پر خدا کی رحمت کی نظر پڑتی ہے تو باقی لوگ بھی بخشے جایا کرتے ہیں“۔( خطبات طاہر جلد ۴ صفحہ ۵۳۶) پس ماندگان میں آپ نے بیوہ محترمہ ناصرہ بنت ظریف جو بے حد مخلص اور فدائی احمدی ہیں کے علاوہ ایک بیٹی اور دو بیٹے یاد گار چھوڑے جو اخلاص میں والدین ہی کے رنگ میں رنگین ہیں۔بیٹی نصرت بنت عقیل اہلیہ میجر طارق بن ابراہیم کراچی میں مقیم ہیں۔دونوں بیٹے مسلم بن عقیل اور عون بن عقیل ناروے میں آباد ہیں۔دونوں ڈاکٹر ہیں اور دینی و دنیاوی نعمتوں سے مالا مال ہیں۔شہادت محمود احمد صاحب اٹھوال شہید پنوں عاقل۔سندھ۔یہ اب وقت ہو چکا ہے میں اسی لئے نظر بار بار اٹھا کے دیکھتا رہا ہوں۔یہ باقی ذکر بعد میں چلیں گے۔