شہدائے احمدیت — Page 168
خطبات طاہر بابت شہداء 161 خطبہ جمعہ ۲۵/ جون ۱۹۹۹ء سے وفاداری ظاہر کرتی ہے۔لیکن انسان بد نصیب کو خدا کا وفادار ہونا نصیب نہیں۔مکرم محمد زمان خان صاحب اور مکرم مبارک احمد خان صاحب بالاکوٹ مکرم محمد زمان خان صاحب اور مکرم مبارک احمد خان صاحب پوڑی، بالا کوٹ تاریخ شہادت اار جون ۱۹۷۴ء۔مکرم سید بشیر احمد صاحب آف پھگلہ کے بیان کے مطابق مکرم محمد زمان صاحب اور ان کے بیٹے مبارک احمد خان صاحب کو دشمنان احمدیت نے اارجون ۱۹۷۴ء کو گولیوں کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا تھا۔ان کی نعشوں کی بے حرمتی کی گئی۔ان کے گھر بار جلا دئے گئے اور ایک نعش کو بھی پٹرول چھڑک کر جلا دیا گیا۔مکرم محمد زمان خان صاحب کے تین بیٹے منیر احمد خان صاحب، منور احمد خان صاحب اور محمود احمد خان صاحب ایم۔اے بقید حیات ہیں۔مکرم محمود احمد صاحب ملا زمت کرتے ہیں اور منیر احمد صاحب اور منور احمد صاحب کامیابی کے ساتھ ٹھیکیداری کرتے ہیں۔چند ہفتے قبل مکرم بشیر احمد شاہ صاحب آف پھگلہ اور مکرم ناظر صاحب اصلاح و ارشاد مرکز یہ ان کومل کر آئے ہیں۔مکرم محمد زمان خان صاحب کی اہلیہ ابھی زندہ ہیں اور ماشاء اللہ بڑی صابر و شاکرہ اور باہمت خاتون ہیں۔مکرم سیطی مقبول احمد صاحب جہلم سیٹھی مقبول احمد صاحب جہلم۔تاریخ شہادت ۲ جولائی ۱۹۷۴ء۔آپ ۱۹۴۲ء میں سیٹھی محمد اسحاق صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔آپ کے والد انتہائی مخلص، نڈر اور بہت جو شیلے احمدی تھے اور وفات تک زعیم انصار اللہ جہلم تھے۔آپ کے دادا میاں محمد ابراہیم صاحب ابتدائی صحابہ میں سے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انجام آتھم میں شائع شدہ ۳۱۳ صحابہ کی فہرست میں آپ کا نام ۲۰۵ نمبر پر تحریہ فرمایا ہے۔آپ کی دادی جان بھی صحابیہ تھیں۔اسی طرح آپ کے نا نا مکرم شیخ فرمان علی صاحب بھی صحابی تھے۔یعنی آپ ہر لحاظ سے نجیب الطرفین تھے۔آپ نے ابتدائی تعلیم جہلم میں حاصل کی پھر بی۔اے تک تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے طالبعلم رہے۔پھر جہلم میں مقبول ھوسٹور کے نام سے ذاتی کاروبار شروع کیا۔آپ کی شادی ۱۹۷۴ء میں مردان کے ایک احمدی خاندان میں مشتاق احمد صاحب کی ہمشیرہ سے ہوئی۔واقعہ شہادت : ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کے ربوہ ریلوے سٹیشن کے واقعہ کے بعد جہلم شہر میں بھی