شہدآء الحق — Page 29
۲۹ نہیں دیکھتے بلکہ ان کی ہتک کرتے ہیں ، اور ان کو حديث كل بدعة ضلالة و كل ضلالة في النار کا مصداق ٹھہراتے ہیں۔اور اہل سنت کو مشرکین کا گروہ کہتے ہیں۔الغرض مسلمانوں کا ہر گروہ دوسرے کی دل آزاری کو ثواب جانتا ہے۔اور اس طرح تخریب اسلام کے در پے ہے۔ان لوگوں نے اسلام سے دشمنی کی جو کفار بھی نہ کر سکے اور حدیث نبوی ستــفــرق امتـى عـلـى ثـلاث وه ر وسبعين فرقة كلهم فى النار الا واحدة قالوا ماهي قال ما انا عليه واصحابی کو اپنے اندر پورا کیا۔یعنی جس وقت میری امت قریب میں ۷۳ فرقے ہو جائے گی۔تو ۷۲ فرقے تو اہل النار ہوں گے۔اور صرف ایک فرقہ محفوظ رہے گا۔جو میرے اور میرے اصحاب کے نقش قدم پر چلے گا۔فرقہ واحدہ ناجیہ کی شناخت : قرآن کریم نے دو (۲) گروہوں کی خبر دی ہے۔ایک اصحاب محمد کی اور ایک اصحاب احمد کی۔اول الذکر کا نام اولین اور امین رکھا ہے اور دوسرے گروہ کا نام آخرین رکھا گیا ہے۔چنانچہ ایک جگہ یوں خبر دی ہے - هو الذي بعث فی الامیین رسولا منه۔۔۔۔۔۔و آخرین منهم لما يلحقوا بهم (سوره الجمه) دوسری جگہ فرمایا ہے کہ ثلة من الاولین و ثــلـة مـن الأخـريـن پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی احادیث میں فرمایا ہے- کیف تھلک امة انا اولها والمسيح ابن مريم في آخرها يعنى میری امت کس طرح ہلاک ہوگی۔جس کا نجات دہندہ جماعت اولین میں میں خود موجود ہوں ، اور جماعت آخرین میں امسیح ابن مریم ہو گا۔پس ثابت ہوا۔