شہدآء الحق — Page 30
کہ آخرین کی جماعت حضرت مسیح موعود کی جماعت ہے۔چونکہ ایک طرف اس گروہ کی شناخت یوں بتائی گئی ہے کہ ما انا عليه واصحابی یعنی وہ میری سنت پر اور میرے اصحاب ! کی طرز پر عامل ہوگا۔تو دوسری طرف فرمایا کہ اخــریـن منهم یعنی وہ آنے والی جماعت اصحاب النبی میں شمار ہوگی۔پس ۷۲ فرقوں کی باہمی تکفیر و تفیق کے بعد جو گروہ بنا۔وہ خدا کے حکم سے اور ایک نبی اللہ کی اجازت سے تھا۔اور ان کے پیش نظر صرف تین امور ہیں۔یعنی خدا، رسول اور کتاب اصحاب النبی کا بھی اصل کام۔(۱) اشاعت توحید (۲) تبلیغ رسالت محمدیہ اور (۳) شریعت قرآنیہ تھا۔اور اصحاب احمد کا کام بھی دراصل اشاعت تو حید تبلیغ رسالت محمدیہ اور شریعت قرآنیہ ہے۔لہذا حضرت احمد جری اللہ کی جماعت ہی علی قدم صحابہ اور جماعت احمدیہ صحابہ کی طرح خالص مواحدانہ عقائد پر قائم ہے۔شرک فی الصفات جو مسلمانوں کے دوسرے فرقوں میں عام ہے۔اس سے محفوظ ہے۔(۲) صحابہ کی طرح نماز روزہ حج زکوۃ وغیرہ احکام دین کی پابند ہے (۳) صحابہ کی طرح آپس میں اتفاق و اتحاد رکھتی ہے (۴) صحابہ کی طرح تبلیغ دین ہر ملک میں کر رہی ہے (۵) صحابہ کی طرح رویائے صادقہ الہامات ربانیہ اور کشوف صحیحہ قبولیت دعا کی روحانی نعمتوں سے مشرف ہے (۶) صحابہ کی طرح وقت کے امام کی مصدق ہے (۷) صحابہ کی طرح تمام قرآنی و نبوی پیشگوئیوں کی مصدق اور اخبار غیب پر ایمان رکھتی ہے۔ناشر: حکیم عبد اللطیف شاہد