شہدآء الحق

by Other Authors

Page 141 of 173

شہدآء الحق — Page 141

۱۴۱ تیسرا پاداش ظلم : باغیان اقوام منگل وخوست کے سرغنہ ملا عبداللہ عرف ملائے لنگ اور اس کے داماد عبدالرشید عرف ملا دبنگ جن کے حق میں امیر امان اللہ خان نے قرآن کریم پر حلف لکھوا کر اقرار کیا تھا۔کہ ان کو کچھ نہ کہے گا۔اور سردار علی احمد جان ان کو اس اقرار کی بنا پر کابل لایا تھا اور انہی کی درخواست پر امیر امان اللہ خان نے حضرت نعمت اللہ خان اور حضرت عبد الحلیم اور حضرت قاری نور علی کو جام شہادت پلایا تھا۔آخرا میر امان اللہ خاں نے ان سے تخلف عن الحلف کیا اور ان کو گر فتار کر لیا۔تو توپ کے آگے باندھ کر کابل میں ہلاک کر دیا۔( زوال غازی صفحہ ۲۸-۳۲۹) گویا خدا نے ان ہر دو ملانوں کو بھی اپنی ظالمانہ درخواست کا مزہ چکھا دیا۔چوتھا پاداش ظلم : سردار علی احمد جان لے جس نے بغاوت خوست کو فتح کیا تھا۔اور باغیان خوست کے ساتھ شرائط صلح طے کی تھیں ( زوال غازی صفحہ ۳۲۸) اور اسی کی سفارش سے امیر امان اللہ خان نے تین مظلوم احمد یوں کو رجم کرایا۔جن کی شہادت کی خبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یکم جنوری ۱۹۰۶ء کو دی تھی۔البشری جلد دوم صفحہ ۱۰۵) فتح منگل کے فوراً بعد بادشاہ کی نظر سے گر گیا تھا اور خطر ناک شخصیتوں میں شمار ہونے لگا ( زوال غازی صفحہ ۱۰) یورپ سے واپسی پر جب سیاحت روما کی فلمیں کابل کے سینما میں دکھائی جانے لگیں۔تو جس وقت سردار علی احمد جان سامنے آتا۔تو تمام سرداروں اور اراکین کے سامنے امیر ے علی احمد مع اپنی والدہ اور دوسرے رشتہ داروں کے میرے اقربا ء ساکنین جاوانز دگھوڑ اگلی ضلع راولپنڈی کے مکانوں میں بہ زمانہ جلا وطنی ہیں سال ٹھہرا رہا۔شاہد