شہدآء الحق — Page 131
۱۳۱ دونوں بھائیوں کے درمیان کیا کچھ سرگوشیاں ہوتی رہیں مگر نتیجہ یہ تھا۔کہ صبح ہوتے ہی غازی امان اللہ خان ایک تیز رفتار موٹر پر قندھار کی طرف رخصت ہو چکا تھا۔اور کسی کو کانوں کان تک خبر نہ تھی۔سفر کی بدشگونی : عزیز ہندی کہتا ہے۔کہ غازی امان اللہ خان نے جس موٹر کو منتخب کیا (۱) اس میں پٹرول نہ تھا۔نہ دوسرے شاہی موٹروں میں پٹرول تھا۔اور نہ پٹرول مل سکتا تھا۔(۲) آخر تھوڑے سے پٹرول کے ساتھ روانہ ہوا۔اور موٹر روانہ ہوتے ہی الٹ گئی۔(۳) اس کا اصل موٹر ڈرائیور اے جو ہندوستانی تھا۔دو دن قبل اپنے سرکاری موٹر میں مردہ پایا گیا۔غازی امان اللہ صرف دو گیلن پٹرول کے ساتھ روانہ قندھار ہوا۔معزول بادشاہ کا اس بے سروسامانی کے ساتھ نکلنا اس کی بے انتہاء مایوسی اور گھبراہٹ کا صاف پتہ دیتا ہے دارالسلطنت اور اس کے اردگرد میں وہ اپنے لئے پناہ کی کوئی جگہ نہ پاتا تھا۔اور معتمد سے معتمد ترین شخص پر سے اس کا اعتبار وغیرہ سب اُٹھ چکا تھا۔( زوالِ غازی صفحہ ۳۳۹) آہ ! جس تاج و تخت کے واسطے اس نے تین مظلوم احمدی قربانی کے بکرے بنائے۔وہ تاج و تخت آخر چھینا گیا۔سچ ہے : - تـؤتــی الملک من تشاء وتنزع الملك ممن تشاء بيدك الخیر انک علی کل شئی قدیر یعنی اے خدا جس کو تو مناسب خیال کرے اس کو تاج و تخت دیتا ہے۔اور جس سے تو مناسب خیال کرے مملکت چھین لیتا ہے۔تمام خیر تیرے ہاتھ میں ا بہاری لال ہندو