شہدآء الحق

by Other Authors

Page 89 of 173

شہدآء الحق — Page 89

۸۹ عزیز ہندی امیر امان اللہ خان نے جلدی سے سرحدات ہند پر گورنمنٹ برطانیہ سے جنگ کی طرح ڈال دی۔جنگ کا آغا ز مئی ۱۹۱۹ء میں ہوا۔اور تھوڑا عرصہ باہمی کشمکش رہ کر اگست ۱۹۱۹ ء میں صلح جنبانی ہوئی۔اور نمائندگان صلح بمقام راولپنڈی بغرض صلح کا نفرنس جمع ہوئے۔برطانیہ نے اپنا سالانہ امدادی وظیفہ بند کر دیا اور حکومت افغانستان کو دولت مستقلہ تسلیم کر لیا۔جس کی یادگار میں ہر سال کابل میں جشن استقلال منایا جاتا ہے۔یہ معاہدہ استقلال ۱۶ / اگست ۱۹۱۹ء کو دستخط پذیر ہوا۔( دیکھوز وال غازی صفحه ۳۱۴) - مذہبی آزادی : سردار محمود خان طرزی خلف سردار غلام محمد خان طرزی اے جو امیر حبیب اللہ خان کے زمانہ میں سراج الاخبار کا بل کا مدیر اور سر دبیر تھا۔اور امیر امان اللہ خان کا خسر اور ملکہ ثریا سے کا باپ تھا۔اور سرزمین شام میں آزادانه زندگی بسر کر چکا تھا۔اس نے امیر امان اللہ خاں پر پورا قا بو پا لیا تھا اور اس کو مشورہ دیا کہ افغانستان کو ممالک متمدن کے اصول تمدن اور تہذیب پر چلا یا جاوے۔اور ملک میں مذہبی آزادی دی جاوے۔چنانچہ ایسا کیا گیا۔کہ ہماری مملکت میں ہر مذہب اور ہر فرقہ کے پیر ومکمل آزادی کے ماتحت رہ سکتے ہیں۔اس پر ہماری جماعت کا نمائندہ جب سردار محمود طرزی سے بمقام بمبئی و منصوری ملا تو انہوں نے تحریری اطلاع دی۔کہ افغانستان میں ہر شخص کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔لہذا جماعت احمدیہ پر بھی کوئی پابندی نہیں۔چونکہ وہ ا سردار غلام محمد خان طرزی ولد سردار رحمدل خان ولد سردار پائندہ خان تھا۔فارسی کا اعلیٰ شاعر تھا اور اس کا دیوان طرزی مشہور ہے۔ے امیر امان اللہ خان کی ملکہ ثریا بنت سردار محمود خان طرزی سے شادی ۱۹۱۴ء میں ہوئی۔دیکھو ڈاکٹر عبد الغنی کی کتاب ” وسط ایشیاء کے سیاسی حالات ، صفحہ ۱۴۱