شہدآء الحق — Page 86
ΔΥ انی مهین من اراد اهانتک کا الہام پورا ہوا۔- خاکسار جب سیر کابل کے واسطے جا رہا تھا۔تو بمقام جلال آبا دا میر حبیب اللہ خان کی قبر کو دیکھا۔جو لب سڑک ایک باغ میں واقع ہے۔۱۳ را گست ۱۹۳۴ء کو ہم نے علامات رحم کو تعویذ قبر پر نمایاں دیکھا۔جو موجود تھے۔یہ قبر ایک مسجد کے دروازے پر واقع ہے۔سبزی مائل سیاہ پتھر کا تعویذ ہے پشاور سے کابل جانے والی سڑک کے جنوب کی طرف ایک وسیع احاطہ باغ کے وسط میں واقع ہے۔گیارھواں پاداش ظلم : حضرت شہید پر فتوے تکفیر اور رجم دینے والے د و ملا قاضی عبد الرازق اور قاضی عبدالروف قندھاری تھے۔قاضی عبد الرازق تو زندہ درگور ہوا۔اور قاضی عبدالرؤف کے انجام کا اس وقت تک کوئی علم نہ ہوا۔البتہ اس کے جانشین اور قابل فرزند قاضی عبدالواسع کو جس نے حضرت نعمت اللہ خان کی شہادت میں حصہ لیا تھا۔حکومت سقاویہ کے والی کا بل ملک محسن نے سر بازار چوک کابل میں نہایت بے رحمی سے ہلاک کیا۔اور خدا کے مواخذہ سے محفوظ نہ رہ سکا۔درس عبرت : میرے عزیز! اگر حضرت احمد علیہ السلام خدا کا راستباز نبی نہیں۔اور اس کی جماعت خدا کی برگزیدہ جماعت نہیں تو آخر کس طرح اور کس وجہ سے جماعت احمدیہ کے افراد کے خون ناحق کا انتقام خدا تعالیٰ نے ایک ایک مجرم سے چن چن کر لیا۔اور اس طرح لیا۔کہ ایک زبر دست با دشاہ اور اس کی جزار فوج بھی بمشکل اس طرح چن چن کر بلا خون ریزی نہ لے سکتی۔مگر