شہدآء الحق

by Other Authors

Page 85 of 173

شہدآء الحق — Page 85

۸۵ دو نوجوان فرزند حضرت محمد سعید جان اور محمد عمر جان جیل فیور سے شہید ہو گئے۔تو اسی طرح اور ٹھیک اسی کے انتقام میں خدا تعالیٰ نے سردار نصر اللہ خاں کا نو جوان لڑکا قتل کرایا اور امیر حبیب اللہ خان کا جوان فرزند سردار حیات اللہ خان بچہ سقہ کے ہاتھ سے مارا گیا۔( زوال غازی صفحه ۳۸۱) شہزادہ حیات اللہ خان لے کو بچہ سقہ نے پہلے پہٹوانے کا حکم دیا اور بعد میں خیال آیا۔کہ اس کی ضرورت نہیں۔اور بغیر پٹوائے بندی خانہ میں بھیج دیا اور دو ماہ کی قید کے بعد خفیہ طور پر قتل کرا دیا اور ارک شاہی کی دیوار کے نیچے دفن کرا دیا۔جب حکومت افغانستان اعلیٰ حضرت محمد نادرشاہ کے ہاتھ آئی۔تو انہوں نے دیوار گرا کر حیات اللہ خان کی نعش نکلوائی اور باقاعدہ ایک قبرستان میں دفن کرا دیا۔( دیکھو زوال غازی صفحه ۳۱) حضرت شہید کے دو مظلوم صاحبزادوں کے عوض میں خدائے غیور نے امیر عبدالرحمن خان کے خاندان کے دو شہزادے ہلاک کرا دیئے۔گندم از گندم بروید جو ز جو از از مکافات عمل غافل مشو دسواں پاداش ظلم (رجم قبر امیر ) : جس طرح امیر حبیب اللہ خان نے حضرت شہید کے جسد اطہر پر باران سنگ کرایا۔اسی طرح اور ٹھیک اسی طرح باغیان علاقہ شنوار نے بدورانِ بغاوت جلال آباد پر حملہ کر کے امیر حبیب اللہ خان کی قبر پر پتھروں کی بارش کی۔اور مرنے کے بعد رجم کیا۔اور ا سردار حیات اللہ خان بزمانہ بچہ سقہ قریباً چالیس سالہ جوان تھا۔