شہدآء الحق — Page 52
۵۲ سامنے گزار کر اور اس سڑک پر جلوس روانہ ہوا۔جوارک سے بجانب بالا حصار واقع کو ہ آسا مائی کی طرف جاتی ہے۔اور اس موقع کے بارہ میں میرزا شیر احمد لکھتا ہے کہ۔چوسا ختند برونش ز بارگاه امیر برد هجوم خلائق شد از صغیر و کبیر یعنی جب اس کو دربار امیر سے باہر نکالا گیا۔تو مخلوقات خورد و کلاں نے اس کے گرد ہجوم کیا۔کو ہ آسامائی کے دامن میں شہر کا بل واقع ہے۔اس کے شیر دروازہ کے باہر جس کا رخ پشاور کی طرف ہے۔آدھ میل کے فاصلہ پر جنوب کی طرف ایک ٹیلہ پر بالا حصار واقع ہے۔یہ ایک قلعہ ہے۔جہاں امیر شیر علی خان رہا کرتا تھا۔اور اس کے بعد وہاں سر لوئس ! کیوگزی انگریزی سفیر رہتا تھا۔جسے افغانوں نے ۱۸۷۸ء میں قتل کر دیا تھا۔انگریزی فوج نے اس قلعہ کی چار دیواری کو خراب کر دیا تھا۔اس کے بعد اب تک یہ قلعہ بطور میگزین استعمال ہوتا تھا۔مگر اعلیٰ حضرت محمد نادر شاہ نے اس کو دوبارہ مرمت کیا۔اور اس کے دامن میں بجانب شمال اونچی سطح پر باغ عمومی یا پبلک گارڈن بنا دیا۔جو بہت خوبصورت ہے اور اس کے پاس مدرسہ حربیہ تعمیر کیا۔اسی ٹیلہ کے جنوب کی طرف وہ مشہور اور پرانا قبرستان ہے جس کے اندر کابل کے امراء ورؤساء کی قبریں ہیں اور اسی جگہ ایک مقام پر حضرت شہید کے رجم کئے جانے کے لئے ایک گڑھا بقدراڑھائی فٹ کھودا گیا۔جس میں حضرت شہید مرحوم کو کھڑا کر کے آدھا جسم گاڑا گیا۔افغانان کا بل اس کو مناریٰ کہتے ہیں