شہدآء الحق — Page 51
۵۱ ہٹا۔ناچار امیر حبیب اللہ خان نے فتویٰ کفر پر دستخط کر دیئے۔مگر آہ بادشاہ اسلام کہلا کر اس قدر نہ کیا۔کہ کاغذاتِ مباحثہ طلب کرتا اور خود فریقین کے دلائل مطالعہ کرتا۔تا کہ اس پر حقیقت کھل جاتی۔علماء اور سردار نصر اللہ خاں سے دب گیا۔عدل وانصاف سب کچھ بھول گیا۔آہ امیر حبیب اللہ خان حضرت شہید کی موت پر نہیں۔بلکہ اپنی اور اپنے بھائی سردار نصر اللہ خان اور کئی اور وں کی موت کے کاغذ پر دستخط کر چکا نہیں بلکہ نسل امیر محمد افضل خان کی تباہی پر دستخط کر چکا - وجف الـقـلـم بما هو کائن یعنی جو ہونا تھا۔اس پر قلم نے دستخط کر دیئے اور خشک ہوگئی۔مسٹر انگس ہملٹن اپنی کتاب افغانستان صفحہ ۳۶۰ پر لکھتا ہے کہ افغانستان کو ایسے بادشاہ کی ضرورت ہے۔جو مضبوط ہاتھ سے حکومت کر سکے۔وہ نہ صرف حکمران ہو بلکہ ان کو انسان بنانے والا ہو۔امیر حبیب اللہ خان کمزور مزاج انسان ہیں۔ایسا ملک جہاں ملاؤں کا فتویٰ قانونِ ملک ہو۔امیر حبیب اللہ خان کا ان کے آگے سر تسلیم خم کرنا اور اپنے بھائی سردار نصر اللہ خان کے زیر اثر ہونا۔اس بات نے عامۃ الناس کی توجہ کو جذب کیا ہوا ہے۔“ جب اس کمزوری طبع نے اس سے فتویٰ تکفیر ور جسم پر دستخط کرا دیئے تو سردار نصر اللہ خان نے علماء کو اطلاع دے دی۔اور انہوں نے ارک شاہی کے آگے جمع ہونا شروع کر دیا۔اور حضرت عبداللطیف کو پابہ جولاں بھاری زنجیروں میں جکڑا ہوا گلے میں فتویٰ کفر و رجم لڑکا یا ہوا۔وزارت حربیہ کے