شہدآء الحق — Page 47
۴۷ حضرت شہید مرحوم شکست کھا گئے۔اور امیر کا بل کو صرف اس قدر اطلاع دی جائے کہ ہم حضرت شہید کے دلائل کو نا درست اور غلط پاتے ہیں اور اس پر فتویٰ کفر دیتے ہیں۔اگر کاغذات مباحثہ سے پبلک کو اطلاع ہو جائے تو احتمال ہے کہ اور لوگ بھی احمدی ہو جائیں گے۔چند سالوں کا عرصہ ہوتا ہے۔کہ جلال آباد کے ایک علاقہ کا ایک مولوی پیشاور آیا۔اور ڈاکٹر محمد دین صاحب غیر مبائیع کی دوکان پر جہانگیر پورہ بازار پشاور میں میرے ساتھ اس نے تبادلہ خیالات کیا۔بدورانِ گفتگو اس نے کہا کہ میں خود اس مباحثہ میں موجود تھا۔جو حضرت شہید مرحوم اور علماء کا بل کے درمیان ہوا۔حضرت شہید کے دلائل زیادہ تر قرآن کریم اور سنت اللہ اور مبنی بر دلائل عقلیہ تھے۔اور علماء کے دلائل تفاسیر اور اقوال سلف سے تھے۔اس واسطے وہ ان مضامین زیر بحث میں حضرت شہید پر غالب نہ آ سکے۔اور ان کو اس قدر علم بھی نہ تھا۔جس قدر حضرت شہید مرحوم کو تھا۔خدا تعالیٰ شاہد ہے کہ اس مولوی کے کلام کا یہی مطلب اور مفہوم تھا۔یہ اس کے الفاظ نہیں بلکہ اس کے کلام کا خلاصہ ان الفاظ میں ہے۔اس بات کی تصدیق ہمارے محترم دوست خان بہا در رسالدار مغل باز خان صاحب رئیس بغداده علاقه یوسف زئی نے بھی کی۔جو اس وقت مدرسہ سلطانیہ میں یہ لباس طالب العلم موجود تھے۔وہ بھی حضرت شہید کے تبحر علمی کے قائل ہیں اور وہ فرماتے ہیں۔کہ قاضی عبدالرازق بھی اقرار کرتے تھے کہ ہم کو حضرت شہید کی طرح قرآن کریم پر عبور نہیں۔اور نہ مباحثات کا تجربہ ہے۔