شہدآء الحق — Page 44
۴۴ میں ناخنوں تک زور لگا یا مگر خائب و خاسر ر ہے۔حضرت شہید مرحوم نے قادیان واپس جا کر وہاں حضرت احمد سے مراجعت وطن کی درخواست کی۔اور دو چار دنوں کے قیام کے بعد ا جازت ملی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت شہید مرحوم کی نہر بٹالہ تک پا پیادہ مشایعت کی۔بوقت رخصت حضرت شہید نے حضرت مسیح موعود سے مصافحہ اور معانقہ کیا۔اور بہ چشم گریاں وسینہ بریاں۔وہاں سے بٹالہ، امرتسر اور کوہاٹ سے ہوتے ہوئے ٹل پہنچے اور ٹل سے سید گاہ علاقہ خوست میں داخل ہوئے۔فصل سوئم حضرت سید عبد اللطیف کی مراجعت وطن اور واقعہ ء شہادت حضرت شہید مرحوم نے وطن جا کر چند دن قیام کیا۔اور پھر ایک قاصد کو چند ا خطوط درباره حالات سفر ہند و حالات حضرت مسیح موعود اور کچھ تبلیغ لکھ کر سردار عبدالقدوس خان سے شاہ غاسی اور سردار محمد حسین خان سے کمانڈرانچیف افغانستان کو جو اس وقت شہر کا بل کے کوتوال تھے۔روانہ کا بل کئے اور ان سے استدعا کی۔کہ مناسب موقع پر امیر حبیب اللہ خان کے یہ سب لے آپ نے افغانستان جا کر بادشاہ سے لے کر تمام بڑے لوگوں کو تبلیغی خطوط بھیجے۔سردار عبدالقدوس خان خلف سردار محمد خان طلائی افغانستان کے صدر اعظم ہوئے۔امیر امان اللہ کے زمانہ بقید حیات تھے۔سے سردار محمد حسین قوم صافی کے رئیس تھے اور مستوفی الممالک تھے۔امیر امان اللہ خان نے اپنے والد کے قتل کے سلسلہ میں اس کو قتل کرایا تھا۔