شہدآء الحق

by Other Authors

Page 43 of 173

شہدآء الحق — Page 43

۴۳ تھا۔اور دہلی میں سابق بادشاہ ایڈورڈ ہفتم قیصر ہند کی تاجپوشی کا جشن منایا جا رہا تھا۔اور لارڈ کرزن بطورنمائندہ ملک معظم کرسی صدارت پر متمکن تھے۔انہی ایام میں مولوی کرم دین صاحب باشندہ بھین ضلع جہلم اور مولوی فقیر محمد صاحب ایڈیٹر سراج الاخبار جہلم اور شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر اخبار الحکم قادیان اور حضرت حکیم فضل الدین صاحب بھیروی کے مابین اس کتاب کے بارہ میں تنازعہ پیدا ہو گیا۔جو پیر مہر علی شاہ صاحب سجادہ نشین گولڑہ کی طرف سے سیف چشتیائی کے نام سے شائع ہوئی تھی۔اور مقدمہ جہلم میں چل رہا تھا۔جہلم کے مجسٹریٹ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی بطور گواہ بغرض شہادت طلب کیا تھا ، اور حضرت اقدس قادیان دارالامان سے مع چند اصحاب ۱۴/ جنوری ۱۹۰۳ء کو روانہ ہوئے اور اپنے ساتھ کتاب مواہب الرحمن بزبانِ عربی بھی لے گئے تھے۔جو اسی دن شائع ہوئی تھی اور حضرت شہید مرحوم بھی اس سفر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہمرکاب تھے۔اور چونکہ خاکساران دنوں اسلامیہ ہائی سکول پشاور کی جماعت ہفتم میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔اور تعطیلات کرسمس وعید الفطر گذر چکی تھیں۔لہذا اول ہفتہ جنوری میں واپس پشاور آ گیا تھا اور حضرت اقدس کی مشایعیت سے مستفید نہ ہو سکا۔آخر کار حضرت اقدس جہلم تشریف لائے۔مقدمہ کا بحق جماعتِ احمد یہ فیصلہ ہوا اور کامیابی سے واپس قادیان تشریف لے گئے۔اس سفر میں قریباً دس ہزار افراد نے جہلم کے ریلوے سٹیشن پر حضرت مسیح موعود کا استقبال کیا اور تین دنوں میں ایک ہزار افراد نے بیعت کی اور يدخلون في دين الله افواجاً کا نظارہ قائم ہو گیا۔بعض لوگوں نے مخالفت