شہدآء الحق

by Other Authors

Page 42 of 173

شہدآء الحق — Page 42

۴۲ پر رو بہ قبلہ قرآن کریم کی تلاوت فرماتے رہتے۔اور خاکسار کنواں کے پاس پہلے کمرہ میں بطرف شمال مقیم تھا۔ہر روز نماز باجماعت میں شامل ہونے کی غرض سے مسجد مبارک میں حاضر ہوتے۔اور مسجد مبارک ان دنوں نہایت تنگ تھی اور ہر صف میں چار یا پانچ افراد ہی کھڑے ہو سکتے۔حضرت مولانا عبد الکریم سیالکوٹی امام الصلوۃ ایک چھوٹے کمرہ میں علیحد ہ کھڑے ہوتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس باری کے پاس جو آپ کے گھر میں بجانب شمال ہے نماز ادا کرتے اور حضرت شہید صف اول کے جنوبی کونے میں کھڑے ہوتے۔بعد از نماز حضرت مسیح موعود کی مجلس میں بیٹھے رہتے اور موقعہ بہ موقعہ کچھ فرمایا بھی کرتے۔اکثر فارسی میں گفتگو کرتے۔- - حضرت شہید مرحوم کا قد درمیانہ تھا۔بدن موٹا نہ تھا۔ریش مبارک بہت گھنی نہ تھی۔بال اکثر سیاہ تھے۔اور ٹھوڑی پر کچھ کچھ سفید تھے۔حالت نهایت گداز تھی۔باتیں بآواز بلند کرتے اور ا کثر حصہ رات جاگتے رہتے۔اور اپنے ساتھیوں کی تعلیم و تربیت میں مشغول رہتے۔تلاوتِ قرآن کریم کا عشق تھا۔ہر وقت حرز جان رکھتے۔آپ کو تمام علوم مروجہ پر عبور تھا۔اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو علوم روحانی کا ایک خاص ملکہ اور ذہن رسا عطا فرمایا تھا۔حق کے مقابلہ میں کسی شخص کی حتی کہ بادشاہ کی بھی پرواہ نہ کرتے تھے۔جب آپ کے مقابلہ میں کوئی عالم کسی مسئلہ میں ملامت ہو جا تا۔تو اپنا غلبہ ہرگز نہ جتاتے نیز روایت ہے کہ جب آپ کسی مسئلہ کی تلاش کے لئے کتاب کھولتے تو پہلی ہی دفعہ یا دوسری دفعہ حوالہ مل جاتا۔یکم جنوری ۱۹۰۳ء مطابق یکم شوال المعظم ۱۳۲۰ھ کو عید الفطر کا دن