شہدآء الحق

by Other Authors

Page 171 of 173

شہدآء الحق — Page 171

ایک مظلوم احمدی کا ترانہ احمد کی پیروی میں ستایا گیا ہمیں اور بدترین خلق دکھایا گیا ہمیں مومن تھے ہم مگر ہمیں کافر کہا گیا فتوائے قتل و رجم سنایا گیا ہمیں مال و متاع جو لوٹ سکے لوٹ لے گئے موقع ملا تو زندہ جلایا گیا ہمیں بیوجہ ہم دھرے گئے زندانیوں کے ساتھ نانِ نمک بنا کے کھلایا گیا ہمیں کوڑوں سے کر دیئے گئے گھائل ہمارے جسم کانٹوں پا برہنہ چلا گیا ہمیں ہاتھوں میں جھکڑی پڑی پاؤں میں بیڑیاں چکی کا پاٹ سر پہ دہرایا گیا ہمیں بس میں جو ان کے آیا اسے کر دیا ہلاک آماجگاہ ظلم بنایا گیا ہمیں بے جرم و بے قصور گرفتار کر لئے اور مجرموں کے ساتھ چلایا گیا ہمیں جو گوسپند سمجھے تھے وہ گرگ بن گئے اور خون کے آنسوؤں سے رلایا گیا ہمیں گرمی میں سخت پیاس سے جب العطش کہا تب آب گرم لا کے پلایا گیا ہمیں قطع تعلقات کو ہم سے رکھا روا منکوحہ بیویوں سے چھڑایا گیا ہمیں بستر ہمارے چھین لئے فرش خاک پر زنداں میں پھر برہنہ سُلایا گیا ہمیں پایا جو ہم کو ہر طرح پر مستقل مزاج! جھنجوڑ کر کے خوب ہلایا گیا ہمیں جب سختیوں سے ہم کو وہ مرتد نہ کر سکے الٹا لٹا کے خوب پٹایا گیا ہمیں احمد نبی کو گالیاں دیں مفتری کہا ناحق ناحق یہ ظلم کر کے دکھایا گیا ہمیں ظالم نے ہم سے چاہا بھلانا وہ راستہ وحی خدا سے جو کہ دکھایا گیا ہمیں اس منتقم نے ظالموں سے لے لے کے انتقام انجام بد ہر اک کا بتایا گیا ہمیں یوسف خدا کے فضل سے ہم بھولتے ہیں کب۔احمد کا درس جو کہ پڑھایا گیا ہمیں ۳۱ جولائی ۱۹۵۸ء