شہدآء الحق

by Other Authors

Page 170 of 173

شہدآء الحق — Page 170

نے ان پر حملہ کر دیا۔اور ان کو اور ان کے خورد سالہ بچہ کو قتل کر دیا۔اور ان کی بیوی اور لڑ کی پر قبضہ کر لیا۔اور حکومت نے چشم پوشی کی اور حاجی صاحب شہید ہو گئے۔محمد احمد نے یہ نوجوان محمد احمد - خانمیرہ صاحب ساکن دہ سبزہ کا بل کا فرزند تھا۔مولوی فاضل تھا۔قادیان میں پیدا ہوا۔اور تعلیم پائی۔کمپونڈ ر کا امتحان پاس کیا۔اور ٹل ضلع کو ہاٹ میں دوکان کرتا تھا۔باشندگان ٹل اور کابل خیل وزمیر اس کی خدمات سے خوش تھے۔ایک متعصب ملا محمد نامی ساکن ہڑکانے فریب سے اس کو اپنے گھر بلوایا اور محمد احمد اعتبار کر کے۔۔چلا گیا۔ملا کا اپنا بچہ بلانے آیا تھا۔کہ ہمارے گھر مریض ہے علاج کریں جب محمد احمد وہاں پہنچا۔تو ملا محمد نے بندوق اٹھا کر محمد احمد پر فائر کر دیا۔اور اس کو شہید کر دیا۔یہ واقعہ ۲۹ / جون ۱۹۵۷ء کا ہے-انا الله و انا اليه راجعون- ا عزیزم مولوی محمد احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ ۱۹۳۳ ء میں کابل سے دوسری بار قادیان آیا۔اس وقت مرحوم قریباً چھ سات برس کا خورد سال معصوم صورت بچہ تھا۔پشتو اور قدرے فارسی کے علاوہ اردو اور پنجابی زبان سے ناواقف تھا۔خاکسار اور مرحوم کے والدین ایک ہی محلہ ناصر آباد میں رہتے تھے۔عزیزم مرحوم کے والدین کی خواہش پر خاکسار سے مدرسه المتفرقین میں جہاں پر خاکسار حضرت مولوی امام الدین رضی اللہ عنہ آف گو لیکے کا نا ئب معلم تھا۔اپنے ساتھ لے جاتا اور فارسی زبان کے ذریعہ اردو کا قاعدہ پڑھاتا۔اور اردو پڑھ لینے کے بعد عزیزم مرحوم با قاعدہ ا پرائمری اور ازاں بعد مدرسہ احمدیہ میں دینی تعلیم حاصل کر کے ٹل میں مقیم ہو گیا۔اور کمپونڈری سیکھ کر خلق خدا کی خدمت میں مصروف تھا۔ایک ملا نے دھو کے سے گھر بلا کر شہید کر دیا۔انا للہ و انا اليه راجعون - خاکسار حکیم عبداللطیف شاہد تا جر کتب لا ہورور بوہ۔سابق باڈی گارڈ حضرت سید نا حضرت خلیفہ ایک ایدہ اللہ تعالی۔