شہدآء الحق

by Other Authors

Page 162 of 173

شہدآء الحق — Page 162

ملک جلد ترقی کرے۔مگر اس پر ضرور بڑا وقت خرچ ہوگا۔سردار صاحب کے ساتھ دونو جوان دوسرے کمرہ میں فوجی لباس میں ساتھی تھے۔جو غالباً کپتان تھے۔مگر جغرافیہ سے اس قدر نا واقف تھے۔کہ دریافت کرنے لگے کہ پہلے راولپنڈی آئے گی یا لا ہور۔بمبئی نزدیک ہے یا لندن۔خاکسار نے بالتفصیل بتایا۔اور نوشہرہ سے اتر کر مردان کا رخ اختیار کیا۔اور ان سے رخصت ہو گیا۔سردار محمد یوسف خان کی داڑھی اب سفید اور خود معمر تھے۔یہ جنرل محمد نادر خان کے والد تھے۔جنرل محمد نادر خان صاحب سے پشاور میں ملاقات : امیر حبیب اللہ خان کے قتل کے بعد غالباً ۱۹۲۴ء میں جب امیر امان اللہ خان جنرل محمد نادر خان سے ناراض ہوا۔اور افغانستان سے باہر روانہ کرنے کی خاطر جنرل موصوف کو فرانس کا سفیر مقرر کر دیا۔آپ فرانس جاتے ہوئے پشاور وارد ہوئے اور ڈین ہوٹل میں مقیم تھے۔خاکسار جماعت احمد یہ پشاور کے چھپیں معزز افراد کا وفد بنا کر ڈین ہوٹل گیا۔اور سیکرٹری سے اجازت حاصل کر کے جنرل صاحب موصوف سے ایک کمرہ میں ملاقات ہوئی۔مزاج پرسی کے بعد جماعت احمدیہ کے مختصر عقائد حضرت احمد کا دعویٰ اور حضرت کے مشن کی غرض بیان کی۔اور تبلیغ اسلام کا جو کام ممالک غیر میں ہو رہا ہے۔اس کا ذکر کیا۔جنرل صاحب اور ان کے عملہ نے غور سے سنا۔اور جنرل موصوف نے بجواب فرمایا۔کہ میں ہندوستان میں بڑی عمر رہا ہوں اور یہاں تعلیم پائی اور