شہدآء الحق

by Other Authors

Page 161 of 173

شہدآء الحق — Page 161

་་་ آصف خان کو اس وقت پہلی دفعہ دیکھا تھا۔جب کہ امیر حبیب اللہ خان سیر ہند پر ۱۹۰۷ء میں تشریف لائے تھے۔اور بازار قصہ خوانی پشاور میں فٹن میں شہر کا سیر کرنے گذرے تھے۔اس وقت دونوں بھائی ایک فٹن میں سوار تھے اور ان کی ڈاڑھیاں سیاہ تھیں۔غالباً ۱۹۲۴ء میں دوبارہ اس وقت سردار محمد یوسف خان کو دیکھا۔کہ آپ بدوران حکومت امیر امان اللہ خان کابل سے پیرس - بغرض تبدیل ہوا و علاج جا رہے تھے۔اور صدر پشاور ریلوے سٹیشن سے سیکنڈ کلاس میں سوار ہوئے۔ان کی گاڑی ریز رو تھی۔چھٹی کا دن تھا۔میں بھی پشاور سے ہوتی مردان جا رہا تھا۔میں نے اطلاع پا کر سیکنڈ کلاس کا ٹکٹ خریدا۔جب گاڑی روانہ ہونے کو تھی۔میں اس بوگی میں سوار ہوا۔جس میں سردار صاحب تشریف فرما تھے۔میں نے بوگی میں داخل ہو کر السلام علیکم کہا اور ایک سیٹ پر بیٹھ گیا اور سردار صاحب سے اجنبی ہونے کی صورت میں گفتگو شروع کی۔اور دریافت کیا۔کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔فرمانے لگے پیرس بغرض علاج اور تبدیلی آب و ہوا۔خاکسار نے گفتگو کا رخ افغانستان کی طرف پھیرا۔وہاں کی ضروریات اور ترقیات علم وتعلیم اور زمانہ کے حالات کے مطابق اہل ملک میں تبدیلی پیدا کرنے کا ذکر کیا۔مسلمانوں کی خستہ حالت اور اصلاح اور حضرت احمد کا ظہور اور مشن اور جماعت احمدیہ کے اصلاحی کارنامے اور عامۃ الناس کی خدمات کا ذکر کیا سردار صاحب سنتے رہے۔اور بعض مقامات پر محظوظ ہوتے اور تعریف کرتے اور اظہار فرمایا کہ ارکان دربار کابل ان حالات سے خبر پاتے رہتے ہیں۔مگر ہمارا ملک بے علم اور جاہل ہے۔وہاں سب سے مقدم علم کی ضرورت ہے۔امیر صاحب بیدار مغز ہیں چاہتے ہیں۔کہ