شہدآء الحق

by Other Authors

Page 146 of 173

شہدآء الحق — Page 146

۱۴۶ صفحہ ۳۸۳) یہ انجام اس قاضی کا ہوا۔جس نے تین احمدیوں کے قتل ورجم کا فتویٰ دیا تھا۔اور اپنی عاقبت سے نڈر تھا - فانظر واکيف كان عاقبة المكذبين- نواں پاداش ظلم : سردار نصر اللہ خان کی اکلوتی لڑکی عالیہ بیگم جو نہایت حسین اور جمیل تھی۔جس کو غازی امان اللہ خان نے منکوحہ بیوی بنالیا تھا۔مگر بقول عزیز ہندی اس کو بھاگتے وقت کس مپرسی کی حالت میں اپنے دشمن بچہ سقہ کے رحم پر کابل میں چھوڑ گیا ( زوال غازی صفحہ ۳۸۶،۸۳) افغانوں کے رسم ورواج کے ماتحت امیر امان اللہ خان کا یہ فعل نہایت شرمناک اور فتیح تھا۔جو اس سے سرزد ہوا۔کہ اپنی بیوی بچہ سقہ کے سپر د کر کے چلا گیا۔- دسواں پاداش ظلم : جس تخت و تاج پر امیر امان اللہ خان کو بڑا ناز و وغرور تھا اور جس کی فرضی حفاظت کے واسطے اس نے جماعت احمدیہ کے افراد کا خون گرانا مباح جانا۔اور بکروں کی طرح حضرات شہداء ثلاثہ کو قربان کیا۔اور جس کو امیر موصوف نے ہمیشہ کے واسطے اولاد سے مخصوص کر دیا تھا۔اس سے چھین لیا گیا۔اور ہمیشہ کے واسطے امیر امان اللہ خان خود اور اس کی اولا د کیا۔بلکہ خاندان عبدا الرحمن خان کا ہر فرد محروم کر دیا گیا۔اور ایک ایسے چور کے سپرد کر دیا گیا۔جو اس کے باپ کا ہم نام تھا۔اور اس کا باپ اس کے داد کا ہم نام تھا۔یعنی حبیب اللہ بچہ سقہ ولد عبد الرحمن- ( زوال غازی صفحہ ۳۸۷) - قل اللهم مالك الملك تؤتي الملك من تشاء وتنزع الملك ممن تشاء وتعز من تشاء وتذل من تشاء بيدك الخير انک علی کل شی قدیر -