شہدآء الحق

by Other Authors

Page 133 of 173

شہدآء الحق — Page 133

۱۳۳ ٹھہر کر جہاز میں سوار ہو کر اطالیہ کا راستہ لیا۔اور اب وہاں آرام سے قیام پذیر ہے۔( زوال غازی صفحه ۳۹۸ و ۴۰۰ ) بقو لے نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن بہت بے آبرو ہوکر تیرے کوچہ سے ہم نکلے فصل ہفتم سردار عنایت اللہ خان کا عزل اور حبیب اللہ بچہ سقہ کا نصب سردار عنایت اللہ خان اے جو امیر حبیب اللہ خان کا فرزند اکبر اور مقرر شدہ ولی عہد تھا۔امیر حبیب اللہ خان کے قتل کے بعد سب سے پہلے خود اس کے چچا اور خسر سردار نصر اللہ خان نے تاج و تخت سے محروم کر دیا تھا۔پھرا میرامان اللہ خان نے سردار نصر اللہ خان کو معزول کر کے خود تاج و تخت کو اختیار کیا۔اور سردار عنایت اللہ خان کو محروم ہی رکھا۔اب امیر امان اللہ خان نے اپنے معزول ہونے پر اس کو تاج و تخت سپر د کر دیا۔مگر اس کی حکومت صرف دوشنبہ اور سہ شنبہ تک محدود رہی۔چہار شنبه ۵ شعبان ۱۳۴۷ھ بذریعہ حضرت شیر آغا مجددی آرک شاہی میں بحق حبیب اللہ خان عرف بچہ سقہ تخت افغانستان کو ترک کے دست بردار ہو گیا۔اور کابل سے بہ اجازت بچہ سقہ اور بہ امداد سفیر لے سردار عنایت اللہ خان ۱۸۸۸ء میں تولد ہوا۔اور ۱۹۰۴ء میں سیر ہند ہندوستان آیا تھا۔اس وقت سولہ سالہ نوجوان تھا۔۱۹۱۹ء میں ولی عہدی کے حقوق سے محروم ہوا۔۱۹۲۹ء کو کابل سے معزول ہو کر پشاور آیا۔اور قندھار گیا اور وہاں سے طہران گیا۔وہاں کچھ عرصہ زندہ رہا اور فوت ہوا۔