شہدآء الحق — Page 9
اور شیطان کا لقب پایا، اور بارگاہ ایزدی سے راندہ ہوا۔اور ملعون اور مردود ٹھہرا۔اور یقینی جہنمی قرار پایا۔اسی طرح حضرت نوح کے مخالفین طوفانِ آب کی نذر ہو گئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے شریر مخالف آفات زمینی و آسمانی کے مستوجب ٹھیرے۔حضرت لوط کے مخالف مکذب آتش فشاں پہاڑ اور زلزلہ کا طعمہ ہوئے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مکذب فرعون معہ آل فرعون بحر میں غرقاب ہوا۔حضرت ہودا اور حضرت صالح کے مخالف زلزلہ اور سیلاب سے تباہ ہوئے حضرت عیسی علیہ السلام کے مکفر و مکذب معاند طیطوس رومی کی تلوار کے گھاٹ اترے۔اور رومیوں کی افواج سے پامال ہوئے۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن کفار عرب اصحاب النبی کی تلواروں اور نیزوں کی نوکوں سے حسرت اور یاس کی موت کے گھاٹ اترے۔صدق الله و رسوله خدا تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی باتیں سچی ثابت ہوئیں۔اور اس کے وعدے پورے ہوئے۔الحمد اللہ اسی طرح اور ٹھیک اسی طرح جب خدا تعالیٰ نے حضرت احمد علیہ السلام کو وحی سے مبعوث فرمایا۔اور اس نے اعلان کیا۔کہ میں آنے والا عیسی موعود اور امام مہدی معہود ہوں۔اور حضرت مسیح ناصری علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور دوبارہ وہ نہ آئیں گے۔بلکہ آنے والا اسی امت کا ایک فرد تھا جو میں ہوں۔میں جمیع فرق اسلامیہ کو اپنے ہاتھ پر جمع کر کے اصحاب النبی کے نقش قدم اور اتباع پر چلانا چاہتا ہوں۔اور ان منتشر افراد کو ایک امام اور مرکز پر جمع کرتا ہوں۔میں ان کے واسطے اختلافات باہمی کے واسطے حکم و عدل ہوں۔غیر الاسلام مذاہب کو دعوت الی الاسلام دوں گا مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ میرا