شہدآء الحق — Page 67
قرآن کریم میں کسی مومن کے حق میں کسی حالت میں بھی رجم ثابت نہیں۔کیونکہ یہ سزا خلاف شرافت انسانیہ ہے۔اور مخالف نصوص قرآنیہ بھی۔امیر حبیب اللہ خان نے بادشاہ اسلام اور سراج الملت والدین کہلانے کا مدعی ہو کر سردار نصر اللہ خان اور عوام کے رعب اور کثرت ہجوم سے دب کر ایک مومن صالح کے قتل اورجم کا فتویٰ دے دیا۔اور تعلق استادی اور حق شاگردی اور عدل و انصاف کو بھول گیا۔بغیر کا غذات مباحثہ مطالعہ کرنے کے اور بلا تحقیق رجم پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔حضرت مسیح موعود کا درد دل : حضرت حجتہ اللہ مسیح موعود نے امیر کا بل اور اس کے اراکین سلطنت کی اس کارروائی پر جو اس قتل میں شریک ظالم تھے۔در درسیدہ دل سے امیر حبیب اللہ خاں اور ان اراکین سلطنت کے حق میں جو اس فعل کے بانی مبانی اور محرک ہوئے۔کے بارہ میں لکھا : - ”اے نادان! امیر (حبیب اللہ ) کیا مسلمانوں میں اختلاف مذہب اور رائے پر یہی سزا ہوا کرتی ہے تو نے کیا سوچ کر یہ خون کر دیا۔امیر کا یہ طریق اور یہ عدل ہے۔نہ معلوم وہ خدا کو کیا جواب دے گا۔“ ( تذکرۃ الشہا دتین صفحه ۴ ۵ ) شہزادہ عبداللطیف کے لئے جو شہادت مقدر تھی۔وہ ہو چکی ہے۔اب ظالم کا پاداش باقی ہے- انه من يات ربه مجرماً فـان لـــه جهنم لايموت فيها و