شہدآء الحق

by Other Authors

Page 58 of 173

شہدآء الحق — Page 58

۵۸ فصل پنجم حضرت سید عبد اللطیف شہید کی شہادت کے بعد واقعات کا ظہور مسٹر انگس ہملٹن اپنی کتاب افغانستان کے صفحہ ۴۵۰ پر لکھتا ہے کہ ۱۹۰۳ء میں افغانستان کے شہر کا بل اور شمال و مشرقی صوبہ جات میں زور وشور سے ہیضہ پھوٹ پڑا۔جو اپنی شدت کے سبب سے ۱۸۷۹ء کی وباء ہیضہ سے بدتر تھا۔سردار نصر اللہ خان کی بیوی اور ایک بیٹا اور خاندان شاہی کے کئی افراد اور ہزار ہا باشندگان کا بل اس وباء کے ذریعہ لقمہ اجل ہوئے۔اور شہر میں افراتفری پڑگئی۔کہ ہر شخص کو اپنی جان کا فکر لاحق ہو گیا۔اور دوسرے کے حالات سے بے فکر اور بے خبر ہو گیا۔“ اس موقعہ پر سید احمد نور صاحب مہا جر خوست و ملا میر وصاحب احمدی جو حضرت شہید مرحوم کے شاگرد تھے۔کابل پہنچے اور وہاں کے احمدیوں کی امداد سے مقتل میں رات کی تاریکی میں پہنچے۔اور حضرت شہید کے جسد اطہر کو پتھروں کے تو وہ سے نکالا۔اور ایک تابوت میں جو اسی غرض کے لئے بنایا گیا تھا بند کر کے قریب کے قبرستان میں دفن کر دیا۔حضرت شہید کا جسد اطہر چالیس دن تک پتھروں کے اندر رہا۔چند دن ٹھہر کر ملا میر و صاحب نے اس تابوت کو وہاں