شہدآء الحق — Page 2
مزمنہ لا ہور میں ۲۴ ربیع الثانی ۱۳۶۶ھ مطابق ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء بزمانہ حکومت ملک معظم ایڈورڈ ہفتم بادشاہ انگلستان و قیصر ہند وفات پائی اور مرفوع الی اللہ ہوئے۔آپ کا جسد اطہر بہشتی مقبرہ واقع قادیان میں سپردخاک ہوا۔انا للہ و انا اليه راجعون جیسا کہ سنت اللہ ہے۔علماء وقت نے مخالفت کی۔تکفیر و تکذیب کا بازار گرم کیا اور ہر قسم کے مظالم آپ کے لئے اور آپ کے خدام کے لئے جائز اور روار کھے۔وہ مسلمان جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمانوں کا امن میں رہنا فرمانِ نبوی میں اسلام و ایمان کی علامت قرار دیا گیا تھا۔جماعت - احمدیہ کے مخالف ہو گئے اور ان کے ہاتھوں اور زبانوں سے وہ دکھ اور تکلیف آپ کو اور جماعت احمدیہ کو دی گئی۔جس کو سن کر یا دیکھ کر ایک حساس انسان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے جب حضرت احمد جری اللہ اور آپ کے خدام پر یہ مظالم ہوتے دیکھے تو اس نے ہر مخالف کی مخالفت کے مطابق ان سے الگ الگ گرفت کی۔اور ہندوستان اور ہندوستان سے باہر ان سے عبرتناک سلوک کیا اور ان کے وجودوں کو اس زمانہ کے واسطے ایک نشان بنا کر چھوڑا۔اس کتاب میں ہم صرف ان مظالم کا ذکر کریں گے۔جو مملکت افغانستان میں افراد جماعت احمدیہ پر ہوئے۔اور جن کا بدلہ زیادتی کرنے والوں کو اسی دنیا میں مل گیا اور غرض یہ ہے کہ اس سے مومنین کا ایمان ترقی کرے، اور ان کو تحریک اور تحریص ہو کہ وہ اپنے صوبہ کے یا کم از کم اپنے علاقہ