شہدآء الحق — Page 1
سبب تالیف کتاب سیدنا حضرت احمد موعود : حضرت احمد موعود علیہ السلام جو قادیان دار الامان ضلع گورداسپور میں ۱۲۵۱ھ مطابق ۱۸۳۵ء میں خاندان مغلیہ کے ایک رئیس جناب مرزا غلام مرتضی خان کے گھر میں ۱۳ فروری کو تولد ہوئے اور ۱۲۹۰ھ کے قریب بعمر چهل سالگی خدا تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت مشرف بہ مکالمہ و مخاطبہ الہیہ ہوئے۔آپ نے مفاسد عالم کی اصلاح کے واسطے مبعوث ہو کر موعود مذاہب عالم ہونے کا دعوی کیا۔جن کو قرآن کریم میں شاہد اور احمد کہا گیا۔احادیث میں امام مہدی معہود اور اناجیل اربعہ میں مسیح موعود اور بھا گوت گیتا میں حضرت کرشن اور کتب زردشت میں بہرام اور کتب یہود میں مسیح ثانی کہا گیا ہے۔آپ نے سنتِ نبوی پر عمل کرتے ہوئے بارہا شاہان کے زمانہ اور رؤساء ممالک کو اپنے ظہور اور اغراض بعثت سے مطلع کیا ، اور ان کو دعوت الی الاسلام دی - آپ نے ۳۶ سال نہایت کامیابی سے دعوت حقہ کے فرائض کو پورا کیا۔اور آخر کار بعد تکمیل دعوت بروز منگل سوا دس بجے صبح بمرض اسهال لے آپ کے موجودہ اور دوسرے خلیفہ ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی اس سنت رسول کے مطابق اپنے زمانہ کے چار بادشاہوں کو تبلیغ احمدیت یا حقیقی اسلام کر کے حجت پوری کر دی اور آج ہم قدرت الہی کا عجیب کرشمہ اور آپ کی ایمان افروز کرامت دیکھتے ہیں۔کہ جب ان میں سے کسی بادشاہ نے آپ کی دعوت حقہ پر کان نہ دھرا اور لا پرواہی اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان سب سے اختیارات حکومت چھین لئے۔چنانچہ نظام حیدرآباد تو دکن میں معزول ہے۔امان اللہ اٹلی میں جلا وطن ہے۔پرنس آف ویلز انگلستان میں بحالت عزلت و دستبرداری زندگی بسر کر رہا ہے۔چوتھا لا رڈارون سابق وائسرائے آف انڈیا ان وسیع اختیارات سے محروم ہے جو وقت دعوت اسے حاصل تھے۔( ناشر )