شہدآء الحق — Page 169
۱۶۹ شہید احمدی تھا۔قاتلوں کی سزا میں غفلت اور چشم پوشی سے کام لیا۔یہ واقعات ۱۹۳۴ء کے قریب کے ہیں۔محمد داؤ دخاں : یہ نوجوان قوم کا جاجی تھا۔پیواڑ کوتل کے پاس ایک گاؤں کا باشندہ تھا۔ربوہ جلسہ سالانہ ۱۹۵۵ء پر آیا۔بیعت کی اور چند دن قیام کیا۔اور جب وطن واپس ہوا۔تو بعض ملاؤں نے ہلڑ مچایا کہ داؤ دخان احمدی ہو گیا اور کافر اور مرتد ہو گیا۔اور اس کے گھر پر حملہ آور ہوئے اور اس کو گرفتار کیا۔اس کو مرتد ہونے پر مجبور کرنا چاہا۔اس نے استقامت دکھائی اور مرتد نہ ہوا۔ملاؤں اور بدمعاشوں نے اس کو ایک درخت سے باندھ کر چاند ماری کر دی اور یہ نوجوان شہید ہوا مگر مرتد ہونا پسند نہ کیا۔یہ واقعہ ابتدا مارچ ۱۹۵۶ء کا ہے۔حکومت کے کمزور طبع حاکم نے قاتلوں سے کوئی باز پرس نہ کی۔حاجی فضل محمد خاں : یہ حاجی صاحب ذی علم ، سادہ مزاج اور متقی انسان تھے۔عرصہ دراز سے احمدی تھے یہ بھی حاجی قبیلہ سے تھے۔جو پیواڑ کو تل کے قریب کے ایک گاؤں کے باشندہ تھے۔ان کے رشتہ داران سے رشتہ کے خواہاں تھے۔حاجی صاحب راضی نہ ہوتے تھے۔حاجی صاحب چارسدہ قرب پشا ورسول کوارٹرز کی مسجد احمد یہ میں نقیب بھی رہے ہیں۔۱۹۵۷ء میں ان کے رشتہ دار آئے۔ان کو قرآن کریم پر حلف اٹھا کر تسلی دی کہ آپ ہمارے ساتھ وطن چلیں اور ہم ہر طرح آپ کو اچھی حالت میں رکھیں گے۔مگر ان کے دل میں ان کے قتل کا ارادہ تھا۔اور ان کی جائداد پر قبضہ پانا تھا۔حاجی صاحب سادہ دلی سے ان کے حلف پر اعتبار کر کے چلے گئے۔وطن پہنچ کر ان کے رشتہ داروں