شہدآء الحق — Page 168
ذلت ہے۔یا تو اسی سال امیر امان اللہ خان سیاحت یورپ میں اپنے اقبال و عروج کے انتہاء پر پہنچ جائے۔اور نپولین کے بسترے میں پیرس میں استراحت کرے۔یا پھر اسی سال ہی تحت الثریٰ میں جا گرے۔کہ بیوی کو دشمن کے ہاتھ میں چھوڑ کر خود کپڑے تک بھول جاوے۔اور جان بچانے کو ہی غنیمت جانے۔آخر یہ سب کچھ کیوں واقع ہوا۔کیا یہ سب اتفاقات ہیں نہیں بلکہ سب کچھ ارادہ الہی کے ماتحت ہوا ہے یہ احمد کی دشمنی کا وبال بالیقین رائے یہ ہماری ہے فصل ششم افغانستان میں چند اور شہداء احمدیت کی شہادت مندرجہ ذیل چند ا حمدی زمانہ حکومت محمد ظاہر شاہ میں شہید ہوئے۔جو حکام مقامی کی غفلت اور کمزوری کا نتیجہ ہے۔ولی داد خاں : یہ نوجوان خوست کا باشندہ تھا۔قادیان آیا - احمدی ہوا۔تعلیم پائی۔کمپونڈری پاس کی۔شمالی وزیرستان میں دوکان کھولی۔اور اہل ملک کی خدمت بحیثیت کمپونڈ ر شروع کی۔اس کے رشتہ دار آئے اس سے ملے۔اس کو شادی کی لالچ دی۔اس نے رشتہ داروں میں شادی کی۔ایک لڑکا ہوا۔وہ صاحب جائداد تھا۔اس کے ورثاء نے شادی کے ذریعہ اس کو دھوکا دیا۔اور وطن لے گئے۔وہاں اس کی جائداد پر قبضہ کرنے کی غرض سے اس کو اور اس کے لڑکے خورد سال کو قتل کر دیا۔اور مقامی حکام یہ جان کر کہ مقتول