شہدآء الحق — Page 165
۱۶۵ أَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۔وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ اتَّقَوْا ط أَفَلَا تَعْقِلُوْنَ O حَتَّى إِذَا اسْتَيْتَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَاءَ هُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّيَ مَنْ نَّشَاءُ طَ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ O لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِأُولِي الْأَلْبَابِ (سوره یوسف ۱۰۹-۱۱۰) یعنی تجھ سے پہلے جس قدر نبی اور رسول ہم نے بھیجے ہیں۔وہ مردوں 6◉ میں سے ہی منتخب ہوئے تھے۔ہم نے ان پر وحی نازل کی۔وہ انہی قصبوں کے رہنے والے تھے۔پس یہ منکر لوگ کیوں اس زمین پر چل پھر سیر نہیں کر لیتے۔تا کہ وہ دیکھ لیں کہ آخر ان منکران رسل کا جو ان سے قبل گزر چکے ہیں کیا انجام ہوا۔آخرت کا گھر تو صرف ان لوگوں کے واسطے بہتر ہو گا۔جو تقویٰ اور پر ہیز گاری اختیار کرتے ہوں۔اور تکذیب رسل سے بچتے ہوں۔پس تم لوگ کیوں تکذیب سے پر ہیز نہیں کرتے۔ایک وقت ایسا بھی آیا۔کہ لوگوں سے رسول مایوس ہو گئے۔اور انہوں نے گمان کر لیا۔کہ بس ان کی تکذیب کی حد ہوگئی عین اس وقت میں ہماری طرف سے ان کو نصرت اور مدد پہنچی۔پس ہم تو جس کو پسند کرتے ہیں۔اس کو بلاؤں سے نجات دیتے ہیں۔اور ہماری سزا کو مجرمانِ رسل سے کوئی نہیں ٹال سکتا۔ان مکذبین رسل کے واقعات بیان کرنے سے ہمیں عقل مندوں کو درس عبرت دینا ہے اور بس۔b