شہدآء الحق — Page 142
۱۴۲ امان اللہ خان کہنے لگتا۔کہ اس خرس کو دیکھو کیسے اکڑ کر چلتا ہے۔( زوال غازی صفحہ (۲۴۱ سردار علی احمد جان سمت مشرقی کی بغاوت کو فرو نہ کر سکا۔اور لاچار فروری ۱۹۲۹ء میں وہاں سے براہ ملک مہمند پشاور پہنچا۔اور چند دن قیام کر کے قندھار چلا گیا (زوال غازی صفحه ۲۴۳) قندھار میں امیر امان اللہ خان کے بعد ما رچ ۱۹۲۹ء میں بادشاہ بن بیٹھا۔مگر وہاں بھی بچہ سقہ کی فوجوں کے سامنے ہتھیار ڈال کر گرفتار ہو گیا۔اور پابہ جولاں اور برہنہ سر کا بل لایا گیا۔(زوال غازی صفحه ۳۶۳،۶۶) عزیز ہندی لکھتا ہے۔کہ سردار علی احمد جان بچہ سقہ کے حکم سے بازاروں میں پھیرایا گیا۔اور اس کے جلوس کا وہی راستہ تھا۔جس پر ہمارا مکان واقع تھا۔میں بیوی اور والدہ سمیت اوپر کھڑ کی میں کھڑا تھا۔جس کا رخ بازار کی طرف تھا۔اتنے میں جلوس آیا۔آگے گھوڑے سوار تھے۔ان کے ہمراہ فوجی باجہ تھا۔جو بچہ سقہ کی فتح و ظفر کے ترانے الا پتا تھا۔اور اس کے بعد پیدل فوج تھی۔کچھ آگے اور کچھ پیچھے درمیان میں مضطرب اور ناتسکین یافتہ ہستی علی احمد جان کی تھی۔کبھی وہ دن تھا کہ وہ اس شان و شوکت سے کابل کی سڑکوں پر نمودار ہوتا۔کہ خود غازی امان اللہ خان پر رشک کی بجلیاں گر پڑتی تھیں۔لوگ ساحرانہ کشش سے خود بخود اس کی تعظیم و تکریم پر مجبور ہوتے۔لوگ اس کی طرف متوجہ ہوتے۔آج زنجیروں میں جکڑا ہوا ایک فرومایہ کی طرح قیدی کی حیثیت سے پا پیادہ منظر عام پر نمودار ہے۔بدن پر صرف معمولی خا کی زمین کی قمیض اور لٹھے کا پاجامہ ہے اور کچھ نہیں۔پاؤں میں پرانی چپلی ہے