شہدآء الحق

by Other Authors

Page 112 of 173

شہدآء الحق — Page 112

۱۱۲ فصل چهارم بعض اخبارات لا ہور کا نا پاک پرو پیگنڈا ظلم کی خلاف حکم قرآں تائید : امیر امان اللہ خان اور اس کے علماء نے تین احمدیوں کو محض بے گناہ صرف باغیان خوست کے خوش کرنے کی غرض سے قتل کرا دیا تھا ، اور کسی مسلمان کو کیا ایک مرتد اسلام کو بھی پتھروں سے قتل کرنے (رجم) کا جواز قرآنِ کریم میں موجود نہیں۔اور نہ کسی صحیح حدیث میں موجود ہے۔کہ اختلاف عقائد پر کسی مسلمان کو یا مرتد کو سنگسار کیا جاوے۔مگر با وجود اس کے ہندوستان و پنجاب کے بعض۔ایڈیٹران اخبارات وغیرہ نے سعی نا کام کی۔کہ کسی طرح امیر امان اللہ خان کو شرعی اور معقول جواز مل جائے مگر یہ سب کچھ محض غلط تھا۔کیونکہ اختلاف عقائد پر رحم کرنا کبھی کسی مومن گروہ کا کام نہیں ہوا۔البتہ سورہ یسین ، سورہ ہود، سورہ الشعراء اور سورہ مریم میں کفار کی طرف سے مومنوں کو رجم کا فتویٰ اور دھمکی ملتی رہی ہے۔ایک ایڈیٹر اے اخبار لا ہور اور علمائے دیو بند پیش پیش رہے۔اور عند الشریعت رجم کے جواز پر بہترے ہاتھ پاؤں مارے۔مگر سب نابود حضرت مولانا شیر علی نے قتل مرتد پر لا جواب کتاب تحریر کی۔اور قائلان قتل مرتد کے قلموں کو توڑ کے رکھ دیا۔آخر کار ان کو یہ سوجھا۔کہ چلو یہ ر۔۔لے ایک مخالف ایڈیٹر اخبار جو احمدیت کا سخت مخالف تھا۔بالآ خر فالج کے مرض میں گرفتار ہوا۔اور عرصہ دراز بیمار رہ کر ۱۹۵۶ء میں مر گیا۔