شہدآء الحق — Page 101
1•1 یه واقعه دوشنبه ۲۹ محرم الحرام ۱۳۴۳ھ مطابق ۳۱ جولائی ۱۹۲۴ء کو ظہور میں آیا۔اور بہت جلد ساری سرحدات افغانستان تک یہ خبر پھیل گئی اور ہندوستان کے اخبارات نے اس کو اطراف عالم میں یورپ اور امریکہ تک پہنچا دیا۔اور مہذب دنیا نے افغانوں کی وحشت اور بر بریت پر دل کھول کر مضامین لکھے اور نفرت کی آراء پاس کیں۔خاکساراس وقت مانسہرہ ضلع ہزار میں بغرض سیر گیا تھا۔اور وہاں ہی اس واقعہ شہادت کا علم ہوا۔اسی وقت پشاور روانہ ہوا۔اور دل میں سخت درد تھا۔اور آنکھوں سے خون پانی ہو کر نکل رہا تھا۔اور یہ چشم پرنم جو اس وقت چند اشعار فارسی زبان سے نکلے۔وہ درج ذیل ہیں۔اور اخبار الفضل مورخہ ستمبر ۱۹۲۴ء میں شائع ہو چکے ہیں۔مرثیہ شہید نوجوان حضرت نعمت اللہ خان پنجشیری اے شہید نوجوان زاں جاں کہ قرباں کردہ مرحبا صد مرحبا بر ما چه احسان کرده ! نعمت اللہ خاں چہ خوش مردانه دادي جان خویش جدا صد آفرین کار نمایاں کردہ سنگ باریدند مردم سویت از جهل و عناد سر خرو گشتی چو تن در خون غلطاں کرده جسم تو مجروح سنگ و روح تو مرفوع شد پیش مولی رفتی و جائیت برضوان کرده