شہدآء الحق — Page 100
کے نزدیک ایک گڑھا اڑھائی فٹ گہرا کھودا گیا۔اور حضرت نعمت اللہ خان نے نماز عصر ادا کرنے کی اجازت حاصل کی۔اور بعد از ادائے نماز ان کو آدھا زمین کے اندر گاڑا گیا۔حضرت نعمت اللہ خاں نے آخری دفعہ باشندگان کابل پر اتمام حجت کر دی۔کہ سید نا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز اعلان فرمارہے ہیں کہ : من صلى صلاتـنـا و استقبل قبلتنا واكل ذبیحتنا فذالک المسلم (رواه البخاری) یعنی جو شخص ہماری مقرر کردہ نماز ادا کرتا ہو اور ہمارے قبلہ کی طرف نماز میں رخ کرتا ہو۔اور ہمارے ہاتھ کا ذبح حلال جان کر کھا تا ہو تو یہی تو مسلمان ہے۔تم ان کو کس طرح کا فر قرار دے دیتے ہو۔قرآن کریم نے صاف فرمایا ہے کہ من قتل مومناً متعمداً فجزاء ه جهنم یعنی جو ایک مومن مسلمان کو عمد اقتل کرتا ہے۔تو وہ یقینی جہنمی ہے۔اس صریح احکام شریعت سے جو خدا اور اس کے رسول نے دیئے ہیں۔رُو گردان ہو کر علمائے کا بل نے ایک مومن با عمل کو گھیرے میں لے لیا۔اور آدھا گاڑ کر اس پر پتھر چلائے۔حضرت نعمت اللہ خان نے رو بہ قبلہ ہوکر با واز بلند کلمہ شہادت پڑھا۔اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمداً رسول الله - یہی الفاظ دوہراتا رہا۔اور جاں بحق ہوا۔اور چند منٹوں میں اس پر سنگ ریزوں کا تو وہ قائم ہو گیا۔اور جسم مبارک نظروں سے پنہاں ہوا۔اور روحِ مبارک سرخرو ہو کر اپنے معبود حقیقی کی طرف پرواز کر گئی انا لله و انا اليه راجعون