شہدآء الحق — Page 98
۹۸ کے ہاں مقدر ہو چکا تھا۔وہ ہو کر رہتا تھا۔اور حضرت نعمت اللہ خان ان تینوں میں سے پہلا قربانی کا بکرا بنا۔آخری خط : حضرت نعمت اللہ خان نے آخری خط میں جن خیالات کا اظہار کیا تھا۔اس کا ایک حصہ ہم نے فارسی نظم میں منظوم کیا تھا۔جو درج ذیل ہے۔اور اصل خط حضرت خلیفۃ المسیح امام جماعت احمدیہ کو بمقام قادیان ارسال کر دیا تھا۔جو وہاں محفوظ ہے۔جذبات حضرت نعمت اللہ خان در زندان کا بل اے خدا من از تو استدعا دریں زنداں کنم جان فدائے دین کنم سرور رہت قرباں کنم من نے خواہم که از زندان مرا بیرون کشی بلکه می خواهم که بر اسلام قربان جان کنم مقصدم اعلائے دین ست و مراکن کامیاب نقش صدق احمدیت بر دل افغان کنم چوں نمی ترسم زکشتن پس چرا خواهم نجات بلکه خونم قطره قطره در رهت افشان کنم گر قضائے تو بمرگم رفته باشد راضی ام تا کہ ذرات وجودم در رہت پران کنم استقامت بخش تا ثابت قدم باشم بمرگ تا کہ حسب بیعتِ خود من وفا پیماں