شہدآء الحق

by Other Authors

Page 88 of 173

شہدآء الحق — Page 88

باب سوم زمانہ حکومت امیر امان اللہ خان بادشاہ افغانستان فصل اوّل حکومت اما نیہ اور مذہبی آزادی کا اعلان نشینی : یہ نوجوان پادشاه جو۔۔۔امیر حبیب اللہ خاں کا تیسرا فرزند تھا۔اور 0 ملکہ علیا لے حضرت کے بطن سے یکم جون ۱۸۹۲ء کوتولد ہوا۔اور بوقتِ وفات والدی سالہ نوجوان تھا۔اور والی شہر کا بل تھا۔جب قوم اور اراکین سلطنت نے اس کو ۲۱ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ کو اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا۔تو اس نے زمام سلطنت ہاتھ میں لیتے ہی فرمانِ شاہی بنام امیر نصر اللہ خان غاصب بمقام جلال آباد روانہ کیا۔کہ وہ حکومت کے دعوی سے دست بردار ہو جائے اور اپنے آپ کو فوج کے حوالے کر دے۔اور پابہ جولان اس کو کابل لایا گیا۔اور مع اپنے دو بھائیوں سردار عنایت اللہ خان ولی عہد ( جس نے بزدلی سے اپنا حق تاج و تخت اپنے خسر کے حق میں چھوڑا تھا۔اور سردار حیات اللہ خاں دوسرے برا در کلاں کے بارگ شاہی میں نظر بند کر دیا۔( دیکھو زوال غازی صفحه ۳۱۳) جنگ سوم افغانستان: ان ناگوار واقعات کے اثر سے بچنے کے لئے بقول ا علیا حضرت والدہ امیر امان الله خان دختر لوی نائب سردار خوشدل خان خاندان محمد زی سے تھی۔امیر امان اللہ خان بوقت قتل امیر حبیب اللہ خان کا بل میں گورنر اور امین تھا۔