شہدآء الحق

by Other Authors

Page 79 of 173

شہدآء الحق — Page 79

۷۹ ہشتم اس نے بیت المال کی دولت کو فضول خرچی میں صرف کر دیا تھا۔حالانکہ اس کو اس پر کوئی فوق حق حاصل نہ تھا۔اس کے سالانہ اخراجات لباس- بیگمات و اثاث البيت بہت خطرناک حد تک بڑھا ہوا تھا۔امیر عبد الرحمن خان نے بڑی محنت سے خزانہ جمع کیا تھا۔وہ ملک کی سالانہ آمدنی اپنے ذاتی عیش میں صرف کرتا تھا۔اور بوقت مرگ اس کے باپ کے اندوختہ میں سے صرف چند لاکھ روپیہ باقی تھے۔یہ تمام امور لوگوں کو اس کے خلاف بھڑ کانے کے تھے۔( صفحه ۹۴ تا ۹۶ ) واقعہ قتل امیر حبیب اللہ خاں : ڈاکٹر موصوف صفحہ ۹۷ - ۹۸ پر لکھتا ہے بوقت مراجعت جب کہ وہ درہ گلہ ء گوش میں سے گذر رہا تھا۔وہ ایک شفاف نالہ پر سے گذر رہا تھا۔جس کے صاف اور شفاف پانی نے جو بڑی نرمی سے پتھر ملی سطح کے ساتھ کھیلتے ہوئے اس کے ساتھ بہہ رہا تھا اس نظارہ نے امیر موصوف کو تخلیات سے بھر دیا۔چند چھوٹی مچھلیاں جو کبھی آڑ میں اوپر چلی جائیں کبھی نیچے آئیں۔امیر اس کا لطف اٹھا رہا تھا۔اس فطرت عریاں کے خوبصورت سادہ تلعب نے جو دور افتادہ خاموش