شہدآء الحق — Page 64
۶۴ میں لکھنا تھا۔اور ان کی شہادت کو اپنے پیرومرشد صاحب کی کرامت اور کامیابی تصور کیا ہے۔اس کی تحریر چونکہ سنی سنائی باتوں پر مبنی ہے۔اس واسطے وہ باتیں بے بنیا دا ور غلط ہیں۔ہم ان کی تصیح یا تردید کر دیتے ہیں۔-1 وہ لکھتا ہے۔کہ حضرت عبداللطیف نے جناب ملا صاحب ہڑہ کو بدوران قیام کابل ۱۹۰۱ ء میں امیر عبدالرحمن خان کا باغی اور کافر ٹھہرایا تھا۔اور امیر حبیب اللہ خان کو اس کے قتل پر آمادہ کیا تھا۔حالانکہ ۱۸۹۵ء کے بعد حضرت عبد اللطیف کو جناب ملا صاحب مانکی سے کوئی تعلق نہ رہا تھا۔اور نہ ملا نجم الدین صاحب سے کوئی تنازعہ باقی تھا۔اور نہ جماعت احمد یہ کسی سے اختلاف خیالات پر کسی کے قتل در جم کو جائز اور درست جانتی ہے۔پس محض یہ افتراء اور بہتان ہے۔جو بعد از مرگ حضرت شہید پر لگایا گیا ہے۔اور ان کی شہادت کے واسطے وجہ ٹھہرائی ہے۔-۲ وہ لکھتا ہے۔کہ حضرت شہید نے کہا تھا کہ میرا پیر حضرت عیسے ہے۔اور جالندھر میں رہتا ہے۔یہ تو درست ہے کہ حضرت احمد قادیانی کو آنے والے عیسے موعود ہونے کا دعوئی ہے۔مگر یہ امر تو بالبداہت غلط اور خلاف واقعہ ہے کہ وہ جالندھر میں سکونت رکھتے تھے۔دنیا جانتی ہے کہ موضع قادیان ضلع گورداسپور میں واقع ہے۔وہ لکھتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کا اصلی نام غلام قادر ہے۔حالانکہ حضرت مسیح موعود کا خاندانی نام غلام احمد اور الہامی اور اصلی نام احمد تھا نہ کہ غلام قادر -