شہدآء الحق

by Other Authors

Page 40 of 173

شہدآء الحق — Page 40

۴۰ حضرت شہید مرحوم نے جس زمانہ میں کتاب آئینہ کمالات اسلام پڑھی اس کے بعد حضرت ملا عبدالرحمن شہید اور مولوی عبدالجلیل صاحب اور حضرت ملا عبدالستار عرف ملا بزرگ کو وقتاً فوقتاً قادیان بحضور حضرت مسیح موعود بھیجتے رہے۔تا کہ علم و معرفت میں مزید ترقی ہو تو ان کے مرید افغانِ سمت جنوبی اور غزنی سے قادیان آتے رہے اور داخل بیعت ہوتے رہے اور ان مبائعین کی فہرست اخبار الحکم قادیان میں شائع ہوتی رہتی۔جس وقت امیر حبیب اللہ خان نے زمام حکومت سنبھال لی۔تو حضرت شہید نے اجازت سفر حج بیت اللہ طلب کی اور امیر موصوف نے بخوشی اجازت دے دی۔اور انعام واکرام سے رخصت کیا۔آپ کا بل سے خوست اور وہاں سے اکتو بر ۱۹۰۲ء تک وارد لا ہور ہوئے۔لاہور میں ان کو معلوم ہوا کہ طاعون کی کثرت نے حجاج پر شرائط کی قیود لگا دی ہیں۔اور سلطان روم نے گورنمنٹ ہند سے حج ہند کے لئے قرنطیہ کا مطالبہ کیا تھا۔جس نے حج کو قریباً محال کر دیا تھا۔اس واسطے آپ نے ارادہ حج کو کسی اور وقت پر ملتوی کر کے قادیان دارالامان جانے کا ارادہ کر لیا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے شرف ملاقات حاصل کیا۔اور ان کی صحبت با برکت سے مستفید ہوتے رہے۔غالباً آپ ہندوستان رجب المرجب ۱۳۲۰ھ کو تشریف لائے تھے اور نصف شوال المکرم ۱۳۲۰ھ تک قادیان میں رہے۔- حضرت صاحبزادہ صاحب کے کمالات اللہ اور اس کے رسول سے عشق و محبت کا کچھ کچھ اندازہ وہ لوگ لگا سکتے ہیں۔جن کو ان کے ساتھ رہنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔آپ کی طہارت پاکیزگی اور صفائی قلب کا یہ کتنا