شہدآء الحق

by Other Authors

Page 38 of 173

شہدآء الحق — Page 38

عرصہ اس نے اپنی صداقت اور ارادت کا اظہار کیا۔جس کی وجہ سے اس کو امیر کابل کے بساط کا قرب حاصل ہوا۔گویا حضرت شہید مرحوم کے مقرب بارہ گاہ امیر ہونا اشد ترین مخالفوں کو بھی مسلم تھا۔۶ اکتوبر ۱۹۰۱ء مطابق ۲۲ / جمادی الثانی ۱۳۱۹ھ ایک عام دربار شہر کا بل میں کیا گیا۔اس دربار میں نمائندگانِ ملک اطراف واکناف سے اور امراء واراکین سلطنت نے امیر حبیب اللہ خان کو اپنا بادشاہ اور حکمران تسلیم کر - لیا۔اور سردار نصر اللہ خان اس کے برادر خورد کو جو ۱۸۷۴ء میں تولد ہوا تھا۔اپنا نائب السلطنت مقرر کر لیا۔بوقت تاجپوشی اس کی عمر قریباً تمہیں سال تھی۔اور سردار نصر اللہ خان کی عمر ستائیس سال تھی۔ان دنوں سرحد پشاور پر علاقہ اقوام مہمند میں جناب ملا نجم الدین عرف ملا صاحب ہڑہ موضع ہڑہ میں موجود تھے۔اور ملا صاحب جناب اخوند عبدالغفور صاحب سوات عرف اخوند صاحب سوات مدفون سیدو کے مرید تھے۔ان کا ایک مد مقابل سجادہ نشین علاقہ خٹک موضوع مانکی تحصیل نوشہرہ میں جناب ملا عبدالوہاب عرف ملا صاحب مانکی تھے۔ہر دو آ پس میں ایک پیرا خوند صاحب کے مرید تھے۔مگر ہا ہم رقابت اور عداوت پیدا ہوگئی تھی۔ملاً صاحب مانکی نے حکم دیا تھا کہ استعمال چلم ونسوار حرام ہے۔اور نماز میں بوقتِ تشہد اشارہ بالسبا بہ درست نہیں۔اور انگریزوں کا خونِ ناحق گرانا حرام ہے۔اور بغیر بادشاہ آزاد قبائل کا جہاد نہیں ہوتا۔ملا صاحب ہڑہ نے آزادا قوام کا جنگ جہاد سے موسوم کیا۔لڑنے والوں کو غازی کا خطاب