شہدآء الحق — Page 31
۳۱ فرقہ واحدہ اور گروہ ناجیہ ہے۔باقی ۷۲ فرقے ان بانیوں کی طرف منسوب ہیں۔جو خود صاحب وحی اور مامور من اللہ نہ تھے۔مگر یہ جماعت ۷۲ کی جامع ہے۔یعنی ان کو ایک مرکز اور امام پر جمع کرنے والی ہے۔جس طرح سید نا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جمیع قسم کے کفار ومشرکین۔یہود و نصاری اور مجوسی اور لامذہب متفق ہو کر الکفر ملة واحدة کے مصداق تھے۔اسی طرح سید نا حضرت احمد جری اللہ کے خلاف تمام گروہ اور مذاہب مل کر متفقہ محاذ قائم کر چکے تھے۔اور الکفر ملة واحدة کا نمونہ بن گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق جماعت احمد یہ ہی آلا وَهِيَ الْجَمَاعَةُ کہلانے کی مستحق ہے۔کیونکہ جماعت وہی ہوتی ہے جس کا امام ہو اور امام بھی وہ جو حکم اور الہام الہی کے ماتحت کھڑا ہو ا ہو کسی احمدی کو کسی مکفر و مکذب کا میرزائی کہنا بعینہ ایسا ہے۔جیسا کہ کفار عرب ومشرکین اصحاب الرسول کو صابی کہتے تھے۔وہ علماء جن کو سید نا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ آلہ وسلم نے شرمن تحت اديم السماء قرار دیا تھا۔انہوں نے حضرت مسیح موعود اور آپ کی جماعت پر فتویٰ کفر دے کر حدیث من قال لاخيه كافراً فقد باء باحد هما (صحیح مسلم خود اپنے کفر پر مہر تصدیق ثبت کی۔اور مصداق كلهم في النار ہوئے۔اور جس عبد البطن نے جب الا میرزائی کہا۔تو حدیث الا واحدہ جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ما انا علیه و اصحابی کا مصداق ٹھہرایا