شہدآء الحق — Page 20
۲۰ براہین قاہرہ کے زور سے قلوب اقوامِ عالم کو سخر نہ کر سکا۔فصل دوم مسئلہ جہاد اور احمدیت حقیقت جہاد : حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ اگر مذہب اسلام اپنی اشاعت اور تبلیغ کے واسط ممنونِ احسانِ شمشیر آبدار ہوتا۔تو آغاز اسلام میں جو لوگ مکہ معظمہ میں داخلِ اسلام ہوئے ان کو کس تلوار سے سید نا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کیا تھا۔اور سیزدہ سالہ کی زندگی میں آپ نے کیوں شیخ و سنان سے کام نہ لیا۔تلوار تو مدنی زندگی میں اٹھائی گئی اور وہ بھی اس وقت جب کہ مکہ والوں نے نہ صرف مسلمانوں کو مکہ معظمہ سے ہجرت پر مجبور کیا بلکہ ان کی جائدادوں اور ازواج پر قبضہ کر لیا بلکہ ان کو بیک بینی و دو گوش مدینہ منورہ اور حبشہ اور کنار بحر احمر کی ہجرت پر مجبور کیا اور بہتوں کو تہ تیغ کیا۔آخر کار ان کا پیچھا کر کے ان کو مدینہ منورہ میں نیست و نابود کرنے کے شوق اور ارادہ سے مکہ معظمہ سے روانہ ہوئے۔تو بحالت صد مجبوری اور بغرض حفاظت جان و مال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے اسی (۸۰) میل باہر نکل کر مقام بدر پر دفاعی مقابلہ کیا۔اور اس کے بعد بھی جس قدر جنگ ہوئے زمانہ نبوی یا خلفائے اسلام کے زمانہ میں وہ اکثر دفاعی تھے۔تاہم تبلیغ اسلام تو صرف قوت روحانیہ اور