شہدآء الحق

by Other Authors

Page 152 of 173

شہدآء الحق — Page 152

۱۵۲ ۲۲ فروری ۱۹۲۹ء کو پیرس سے بمبئی پہنچے اور بمبئی اور لاہور ہوتے ہوئے پشاور پہنچ گئے۔اور پشاور میں آرام فرما کر فروری ۱۹۲۹ء کے آخیر میں سردار محمد ہاشم خان کے ہمراہ خیبر ڈ ہکہ افغانستان کی حدود میں داخل ہونے کی ہدایت کی۔اور مشورہ دیا۔کہ وہ شنواری اور مہمندوں اور آفریدیوں سے امداد حاصل کرے۔خود سردار محمد نادر خان - شاہ ولی خان اور شاہ محمود خان براہ خوست داخل افغانستان ہوئے۔اور قبائل خوست وزیرستان، جدران حاجی اور دوسرے قبائل کی امداد لے کر براہ گردیز و لوگر اور علی خیل کا بل کی طرف بڑھے اور چار آسیا کی راہ شاہ ولی خان کابل میں داخل ہوئے۔اور بچہ سقہ کی افواج اور مددگار شکست کھا گئے اور کابل فتح ہوا۔ابتدائی نصف اکتوبر ۱۹۲۹ء سردار محمد نادر خان کا بل پر قابض ہو گئے۔اور بچہ سقہ نے ارک شاہی خالی کر دیا۔۱۶ / اکتوبر ۱۹۳۰ء کو سردار محمد نادر خان نے افغانستان کے صوبوں سے نمائندے طلب کر کے لوئی جرگہ قائم کی اور لوئی جرگہ نے بالا تفاق سردار محمد نا در خان کو تخت و تاج پیش کیا اور کہا ہر کہ شمشیر زند سکه بنامش خوانند اس طرح خدا تعالیٰ نے سردار محمد نادر خاں کو افغانستان کا بادشاہ اعلیٰ حضرت محمد نادر شاہ ) بنا دیا۔اور امیر امان اللہ سے عامۃ الناس نے سخت بیزاری کا اظہار کیا۔اور اس کو کافر اور بے دین اور عیاش اور بد کردار ظاہر