شہدآء الحق — Page 13
۱۳ تیری وفات کے بعد ( ۱۵ ) ساریکم آیاتی فلاتستعجلون یعنی میں عنقریب تم کو اپنے نشانات دکھاؤں گا پس تم جلدی مت کرو (۱۶) ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وانت خير الفاتحین یعنی اے ہمارے رب تو ہم میں اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ فرما اور تو فیصلہ کرنے والوں میں سے بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔خدا تعالیٰ نے جیسا کہ حضرت احمد علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے کلام کے ذریعہ تسلی اور تشفی دی تھی۔اسی طرح عملاً اپنے فعل سے مکفرین و مکذبین سے سلوک بھی کیا۔حضرت اقدس علیہ السلام کی نسل کو بڑھا یا جماعت کو بڑھایا اور آپ سے وہی سلوک کیا جو اپنے پاک اور برگزیدہ نبیوں سے کیا تھا۔اور آپ کے مخالفوں سے وہی سلوک کیا جو حق کے مخالفوں سے ہوتا آیا ہے۔اور سب سے بُرا انجام ان لوگوں کا ہوا۔جن کو حضرت احمد علیہ السلام نے اپنی کتاب انجام آتھم میں صفحہ ۶۹ پر مباہلہ کی دعوت دی تھی۔اور انہوں نے مباہلہ بھی نہ کیا۔اور تکفیر و تکذیب سے بھی باز نہ آئے۔جو شخص اب یا آئندہ بھی یہ خطر ناک طرز عمل اختیار کرے گا۔تو وہی خداوند غیور اب بھی موجود ہے اور اس کے قبضہ قدرت میں وہی گرفت اخذ الیم اور عذاب شدید کی موجود ہے۔چونکہ ہمارا مدعا پنجاب یا ہندوستان یا دوسرے ممالک کے مکفروں اور مکذ بوں سے نہیں اور یہ کام ہم ان ملکوں کے لوگوں پر چھوڑتے ہیں۔کہ وہ اپنے علاقہ کے ایسے لوگوں کے حالات جمع کر کے ترتیب دیں۔اس واسطے ہم صرف اس وقت افغانستان اور اس کے بعد صوبہ سرحد شمال مغربی کے اندر واقع شده نشانات کا تذکرہ کریں گے اور بالخصوص یہ حصہ کتاب مملکت افغانستان سے