شہدآء الحق — Page 14
۱۴ متعلق ہے کہ وہاں دعوت احمدیت کس طرح پہنچی۔اور وہاں کے مکفر اور مکذب گروہ کے ساتھ خدا تعالیٰ نے کیسا سلوک کیا۔اور ہمارے ملک کے باشندے اکثر حالات افغانستان سے بسبب ہمسایہ ہونے کے خوب واقف ہیں۔اس واسطے ان کی دلچسپی بھی انہی واقعات سے زیادہ ہو سکتی ہے۔پیشتر اس کے کہ ہم اصل واقعات پر روشنی ڈالیں۔ہم اپنے وطن کے مطالعه کنندگان سے بطور ایک ہموطن بھائی اور ہمدرد اور خیر خواہ کے مؤدبانہ التماس کرتے ہیں۔کہ وہ ذرا خدا کا خوف اور موت کا واقعہ اور میدانِ حشر کی باز پرسی کو سامنے رکھ کر ایک ایک ہو کر یا دو (۲) دو (۲) مل کر عدل اور انصاف کو سامنے رکھ کر خوب سوچیں اور اپنی ضمیر سے دریافت کر یں۔کہ کیا ممکن نہیں ہو سکتا۔کہ واقعی آنے والا اسی امت محمدیہ کا ایک فرد ہو۔اور ہم میں سے کوئی انسان ہو۔اور خدا تعالیٰ نے اس کو شرف مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف کیا ہو۔اور اس کو مسیح موعود اور امام مہدی معہود قرار دیا ہو اور اس سے اشاعت تو حید اور تبلیغ رسالت محمدیہ اور تعلیم قرآن مجید کا کام لیا ہو اور ہم کو صحیح معنوں میں مسلمان بنانے آیا ہو۔اور وہ موعود یہی حضرت احمد قادیانی ہو۔اور دراصل جميع انبیاء و رسل کی طرح حضرت عیسی علیہ السلام بھی فوت شدہ ہوں۔ہم اور ہمارے علماء اس کی تکذیب اور تکفیر میں غلطی پر ہوں ، اور حق اور سچ وہی ہو جو حضرت احمد فرماتے ہیں۔اور اگر واقعات اسی طرح ہوں۔تو ہماری تکذیب اور تکفیر ہمارے واسطے کیسا خطرناک انجام پیدا کرے گی۔ایک تو ہم اس کے وجود کی شناخت سے محروم رہے۔جس کا تیرہ سو سال سے انتظار تھا۔دوسرا وہ خدمت اسلام جو اس نے کرنی تھی۔اس سے محروم ہوئے۔تیسرا اس کے ماننے کے