شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 83 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 83

مکرم ملک مقصود احمد صاحب شہید ( سرائے والا ) مکرم ملک مقصود احمد صاحب شہید ( سرائے والا ) ابن مکرم ایس اے محمود صاحب۔شہید مرحوم کے دادا بٹالہ کے رہنے والے تھے جبکہ ان کے والد صاحب مکرم احسن محمود صدر پاکستان ایوب خان کے مشیر بھی رہے۔اسی طرح ان کے نانا حضرت ملک علی بخش صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے اور ریاست بھوپال کے رہنے والے تھے۔بچپن میں ان کی والدہ محترمہ کے سر پر بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا شفقت بھرا ہاتھ پھیرا تھا، شہید مرحوم کے نانا ، دادا اور والدہ محترمہ صحابی تھے۔شہید مرحوم کی پیدائش بھوپال میں ہوئی۔نانی محترمہ مختار بی بی صاحبہ کے پاس انہوں نے قادیان میں پرورش پائی۔تعلیم الاسلام کالج میں زیر تعلیم رہے۔ایف اے کے امتحان سے قبل واپس بھوپال چلے گئے۔پھر یہ فیملی لاہور آ کر سیٹل (Sette) ہوگئی۔شہادت کے وقت ان کی عمر 80 سال تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے اور اپنے حلقے میں بطور سیکرٹری تعلیم ،سیکرٹری تعلیم القرآن امین اور آڈیٹر خدمت کی توفیق پا رہے تھے۔شہید مرحوم ملک طاہر صاحب قائمقام امیر ضلع لاہور کے بہنوئی تھے۔دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔شہید مرحوم کے نواسے نے بتایا کہ وہ مسجد کے مین ہال میں دوسری صف میں بیٹھے تھے۔فائرنگ کے وقت مربی صاحب کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے صحن کی طرف باہر نکلے تو دیکھا کہ شہید مرحوم کانوں میں انگلیاں ڈال کر لیٹے ہوئے تھے۔یہ نواسہ جو باہر نکلا تھا۔لیکن مجھے ان کے اندر کوئی حرکت نظر نہیں آ رہی تھی۔شاید اس وقت شہید ہو چکے ہوئے تھے کیونکہ کافی گولیاں لگی ہوئی تھیں۔شہید مرحوم کے اہل خانہ نے بتایا کہ پنجوقتہ نماز اور تہجد کے پابند تھے۔باقاعدگی سے چندے ادا کرتے تھے۔تبلیغ کا بہت شوق تھا۔جماعتی کتب کا مطالعہ اور خلیفہ وقت کے خطبات باقاعدگی سے سنتے تھے۔ایم ٹی اے کے دیگر پروگرام بھی دلچسپی سے دیکھتے تھے اور سنتے تھے۔اکاؤنٹس کے ماہر تھے۔ایک مرتبہ بتایا کہ قادیان میں مقابلہ ہوا بچپن میں جب 83